اس حوالے سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ایران میں چھے نئی دواؤں کی وسیع پیمانے پر پیداوار شروع کردی گئی ہے۔ ایران کی وزارت صحت کے حوالے سے خبر کے مطابق جن نئی دواؤں کی پروڈکشن لائن کا آغاز کردیا گیا ہے ان میں سے ایک دوا گلورنتا ہے جو شوگر لیول کنٹرول کرنے کے لئے تیار کی گئی ۔ شوگر کی دیگر دواؤں کے مقابلے میں اس دوا کی تاثیر زیادہ ہے ۔ یہ دوا شوگر لیول کم کرنے کے ساتھ ہی قلب پر دائبیٹیز کے اثرات کو بھی کم کرتی ہے۔
اس کے علاوہ دو دوائیں، جیومائیڈ اور نورا بیکس ایم ایس کے علاج کے لئے تیار کی گئی ہیں ۔ اس کے علاوہ تین دوائیں کینسر کے علاج کے لئے تیار کی گئی ہیں جن کے نام نیوراپا، برٹیگا اور لوٹیوا ہیں ۔ یہ دوائیں کیموتھراپی کی جگہ استعمال ہوتی ہیں اور کینسر کے مریضوں پر اس کے آفٹر افکیٹس بہت کم ہوتے ہیں ۔ ایران میں دواسازی میں یہ پیشرفت ایسی حالت میں حاصل ہوئی ہے کہ امریکا نے ایران کے خلاف ظالمانہ پابندیاں سخت ترکر دی ہیں ۔
اس اہم پیش رفت سے قبل ہی ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف نیویارک میں ایک کانفرنس کے دوران کہہ چکے ہیں کہ امریکا کی اقتصادی دہشت گردی کے باعث اسپتالوں کے لئے ضروری طبی وسائل اور دواؤں کی فراہمی میں رکاوٹیں آرہی ہیں۔ جان بچانے والی ادویاات کی قلت کی وجہ سے ہزاروں مریض مشکلات کاا شکار ہیں لیکن انسانی حقوق کا دعویدار امریکہ کیلئے ان مریضوں کی جان کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ڈاکٹرمحمد جواد ظریف نے کہا کہ حکومت کی پالیسی تبدیل کرنے کے لئے معاشرے کے کمزور ترین طبقے پر دباؤ ڈالا جارہا ہے جس پر دہشت گردی کی روایتی تعریف کا اطلاق ہوتا ہے اور اسی کے ساتھ یہ اقتصادی دہشت گردی بھی ہے ۔ان پابندیوں میں براہ راست ایرانی عوام کو ہدف قرار دیا گیا ہے ۔