امریکی صدرٹرمپ کا مواخذہ۔۔۔۔ آخر ہوگا کیا۔۔۔؟؟

 

امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی صدر ٹرمپ کے مواخذے کے سلسلے میں انکوائری کرنے جا رہی ہے۔ اگر یہ کامیاب ہوتی ہےتو صدر کو اپنے عہدے سے ہٹایا جاسکتا ہے تاہم واشنگٹن میں سیاسی جماعتوں میں تقسیم کودیکھتے ہوئے یہ ایک انتہائی مشکل عمل ہے اور ایسا ہونے کا امکان بہت کم ہے، کسی امریکی صدر کامواخذے کےبعد عہدے سے ہٹایا جانا اتنا مشکل عمل ہے کہملک کی تاریخ میں یہ کبھی نہیں ہوا۔

ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ نینسی پلوسی ماضی میں مواخذے کے حق میں نہیں تھیں کیونکہ شاید انھیں یہ خدشہ تھا کہ معتدل ڈیموکرٹس جنھیں 2020 کے انتخابات میں کڑے مقابلے کا سامنا ہے، کہیں وہ مشکل میں نہ پڑ جائیں اور ان کی پارٹی کی ایوانِ زیریں میں اکثریت خطرے میں نہ پڑ جائے۔

تو اگر اس سے صدر کا ہٹائے جانے کا امکان انتہائی کم ہے اور ممکنہ طور پر ڈیموکرٹس کو مشکل پڑ سکتی ہے تو اب ایسا کرنے کا مقصد کیا ہے؟

کسی امریکی صدرکو ان کے عہدے سے ہٹانا مشکل اس لیے ہےکہ اس کے لیے کانگریس کے دونوں ایوانوں کی منظوری چاہیے’ایوانِ نمائندگان (ایوانِ زیریں) میں تو صرف ایک سادہ اکثریت چاہیے۔

اس کے بعد سینیٹ (ایوانِ بالا) صدر پر ایک مقدمہ چلاتی ہے جس میں سزا کی صورت میں انھیں عہدے سے ہٹا دیا جاتا ہے مگر اس کے لیے سادہ اکثریت کافی نہیں۔ اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ ریپلکن اکثریت والی سینیٹ صدر ٹرمپ کو عہدے سے ہٹائے جب آپ کو ایک بھاری اکثریت چاہیے۔‘

صدر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے سینیٹ کی دو تہائی اکثریت یعنی 100 میں 67 سینیٹرز کی حمایت چاہیے۔تاہم کیونکہ 53 سینیٹر اس وقت ریپلکن ہیں، اس بات کا امکان بہت کم ہے ان کی کوئی بڑی تعداد صدر ٹرمپ کو عہدے سے ہٹانے کے حق میں ووٹ ڈالے گی۔  تاریخ میں صرف دو امریکی صدور کا مواخذہ ہوا ہے، 1868 میں اینڈریو جانسن اور 1998 میں بل کلنٹن مگر دونوں کو سینیٹ سے بری کر دیا گیا۔

صدر کے خلاف مواخذے کی باضابطہ انکوائری شروع کرتے ہوئے ایوانِ نمائندگان کی سپیکر نینسی پلوسی نے کہا تھا کہ ’کوئی بھی قانون سے بالا تر نہیں اور ٹرمپ کو اپنے اقدامات کے لیے جوابدہ ہونا ہوگا۔ چاہے مواخذے کی کوشش ناکام بھی ہو جائے ان عقائد کی پاسداری ہی شاید اس اقدام کا مقصد ہے۔

نینسی پلوسی نے ایم ایس این بی سی ٹی وی سےایک انٹرویو میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی عوام کے ٹیکسوں سے ملنے والی رقم کو اپنے صدارتی حریف کی پوزیشن کمزور کرنے پر صرف کررہے ہیں ۔انھوں نے کہا کہ ٹرمپ نے اپنے حریف صدارتی امیدوار جو بائیڈن کی پوزیشن کمزر کرنے کے لئے جو غیر قانونی حربے استعمال کئے ہیں ،ان سے اس حلف کی خلاف ورزی ہوتی ہے جو بحیثیت صدر، ٹرمپ نے اٹھایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے ان حربوں سے صدارتی الیکشن کی شفافیت اور سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔نینسی پلوسی نے کہا کہ ٹرمپ نے اس رقم کو اپنے پاس گروی رکھ لیا جو یوکرین کی مدد کے لئے کانگریس کے دونوں پارٹیوں کے اراکین نے منظور کی تھی ۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے اس طرح امریکا کی قومی سلامتی کے لئے خطرات پیدا کردیئے ہیں ۔ایوان نمائندگان کی اسپیکر نے ٹرمپ کے اس اقدام کو قومی سلامتی اور ملک کے صدارتی انتخابات کے عمل سے خیانت قرار دیا ہے۔

امریکی حکومت کا حالیہ یوکرین اسکینڈل سامنے آنے کے بعد، یوکرین کے لئے خصوصی امریکی نمائندے کرٹ وولکر نے استعفی دے دیا ہے ۔ اس حوالے سے سی این این نے ہفتے کو اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہےکہ یوکرین کے لئے امریکا کے خصوصی ایلچی کرٹ وولکر نے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کے بارے میں تحقیقات کے سلسلے میں ، وزیر خارجہ مائک پومپیؤ اور وزارت خارجہ کے بعض دیگر عہدیداروں کو کانگریس کی تین کمیٹیوں میں گواہی دینے کے لئے طلب کرلیا گیا۔ ان دنوں امریکا میں، یوکرین کے صدر ولودیمیر زلنسکی کے ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیلیفونی مکالمے کو لےکر ہنگامہ شدت اختیار کرگیا ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ مواخذہ سینیٹ میں ریپلکن اکثریت سے آگے نہیں جا پائے گا، لیکن اس کارروائی سے عوامی رائے کو ضرور فرق پڑے گا۔ رائے شماری کے ایک جائزے کے مطابق اگر یہ ثابت ہو جائےکہ صدر ٹرمپ نےیوکرین کو فوجی امداد اسی لیے روکی تھی تو 55 فیصد امریکی کہیں مواخذے کی حمایت کرتے ہیں۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ مزید انکشافات انھیں اور نقصان پہنچائیں اور شاید پھر ان کی سیاسی پوزیشن بہت کمزور ہو جائے۔

اور ایسا تو تاریخ میں ہو چکا ہے۔ 70 کی دہائی میں صدر نیکسن کے خلاف جب مواخذےکی کارروائی شروع ہوئی تھی اور صرف 19 فیصد امریکیوں کا خیال تھا کہ انھیں عہدے سے ہٹایا جائے۔ مگر اس کارروائی کے دوران انکشافات اتنے ہوئے کہ یہ نمبر 57 فیصد تک جا پہنچا تھا۔ااس لحاظ سے اب آنے والے کچھ دن واضح کردیں گے امریکی صدر کے خلاف مواخذے کی یہ تحریک اپنے کس انجام کو پہنچتی ہے ویسے ناقدین کا یہ خیال ہے کہ فی الحال تو صدر کو کوئی خطرہ نہیں لیکن ان کے قول و فعل ایسے رہے ہیں کہ ووہ کس وقت ایسا کیا کرجائیں جو ان کے خلاف امریکی عوام کی اکثریت کو بیدار کردے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

 

 

 

 

Share This Article

تازه ترین