اطلاعات کے مطابق حکومت پاکستان نے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی ری اسٹرکچرنگ کا فیصلہ کر لیاہے اس حوالے سے وفاقی وزیر پیر نور الحق قادری نے رویت ہلال اور قمری کلینڈر سے متعلق وزارت مذہبی امور میں اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی رویر ہلال کمیٹی کی تعداد بہت زیادہ ہے۔
وفاقی وزیر پیر نورالحق قادری نے کہا کہ وزیر مذہبی امور کی قیادت میں 6 رکنی ورکنگ گروپ تشکیل دینے پر اتفاق ہوا ہے.قبلہ ایاز، حنیف جالندھری، مفتی پوپلزئی، سیکریٹری مذہبی امور کے پی ورکنگ گروپ میں شامل ہوں گے.ان کا کہنا تھا کہ ورکنگ گروپ مسئلے کو حل کرنے کی بھرپورکوشش کرے گا، رویت ہلال کمیٹی کی ری اسٹرکچرنگ کریں گے.
وفاقی وزیر نے مزید کاہ کہ رویت ہلال کمیٹی کے ممبران کی تعداد بہت زیادہ ہے، کمیٹی سے متعلق قانون سازی پر گروپ کام کرے گا. 15 جولائی 2019 کو وفاقی وزیر فواد چوہدری نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ میری کابینہ سے درخواست ہے کہ رویت ہلال کمیٹی کوختم کردیا جائے.فوادچوہدری کا کہنا تھا چانددیکھنےسےمتعلق دیگرممالک نےہماری کوشش کوبہت سراہاہے، امید ہے او آئی سی ہمارے قمری کلینڈر کو منظور کرلےگی۔
دوسری جانب مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمان کی جانب سے ایک انتہائی متنازع بیان نے ان کی حیثیت اور اہمیت دونوں کو مشکوک کردیا ہےاس حوالے سسے انھوں نہ نہ ہی وضاحت جاری کی نہ اپنے بیان پر شرمندگی کا اظہارکیا جبکہ رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے بھی ان کے متعدد فیصلے اورانداز متنازع رہے ہیں، اب کمیٹی کی ری اسٹرکچرنگ سے واضح ہے کہ ان کو اب اس عہدے پر مزید برقرار نہیں رکھا جائے گا۔