سنگاپور کا کچرا کہاں جاتا ہے۔۔۔؟؟  

 

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے دیگر مسائل تو اپنی جگہ لیکن شہریوں کی سب سے بڑی پریشانی یہاں مہینوں سے جمع ہونے والا کچرا اور اس کے ٹھکانے لگانے کے مسائل ہیں، گذشتہ 11 سال سے صوبہ سندھ کی برسرِ اقتدار پیپلز پارٹی نے شہر کو کچرے سے نجات دلاںے کیلئے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیئے نتیجے میں شہر کراچی اور بچراچی بن گیا ہے، لیکن ااگر زیادہ دور نہ جائیں اور اپنےح ہی براعظم ایشیا کی مثال لیں تو اس میں ایک ایسا ملک بھی ہے جس نے کچرے کو ٹھکانے لگانے کیلئے نہ صرف انوکھا کام کیا بلکہ اس کے اقدامات نے ماحولیات کو کسی خطرے سے بھی دوچار نہیں کیا۔

یہ ہے براعظم ایشیا کا سب سے جدید، ترقی یافتہ اور خوبصورت ترین ملک سنگاپور، جو  نہایت چھوٹا سا ملک ہے اور یہاں کچرے کے بڑے بڑے ڈمپنگ پوائنٹس بنانے کی قطعی جگہ نہیں لیکن سنگاپور کی صفائی ستھرائی مغربی ممالک کوبھی پیچھے چھوڑ دیتی ہے،آئیں آپ کو بتاتے ہیں کہ سنگاپورسے یومیہ کتنا کچرا جمع ہوتا ہے اور وہ کچرے کو کس طرح ٹھکانے لگاتے ہیں.

پہلے کچھ اعداد و شمار کا جائزہ: پاکستان 14 اگست 1947 کو وجود میں آیا اور 2019 میں اس کی آبادی لگ بھگ 22 کروڑ افراد پر مشتمل ہے جبکہ اس کے سب سے بڑے میٹروپولیٹن شہر کراچی کی آبادی ڈھائی کروڑ سے زائد ہے جبکہ کراچی میں یومیہ 14 ہزار سے 16 ہزار ٹن کچرا جمع ہوتا ہے لیکن اس میں سے بمشکل 5 ہزار ٹن ہی ٹھکانے لگایا جاتا ہے اور اس کے تھکانے لگانے کا انداز دنیا میں سب سے نرالا اور شاید بد سے بھی بدترہونے کے ساتھ ماحولیاتی آلودگی کیلئے خطرناک ترین ہے۔

سنگاپور کو 9 اگست 1965 کو ملائیشیا سے آزادی ملی اس وقت اس کی آباادی تقریباً 60 لاکھ کے قریب ہے لیکن یہاں یومیہ 9 ہزار ٹن کچرا جمع ہوتا ہے، سنگاپورنے اس کچرے سے نمٹنے، شہر کو صاف ستھرا رکھنے اور کچرے کو ٹحکانے لگانے میں ماحولیاتی آلودگی کے تدارک کا بھرپور خیال رکھا ہے۔

سب سے پہلے سنگاپور میں روزانہ کی بنیاد پر ہرجگہ سےکچرا اکٹھا کیا جاتا ہےاوراس میں کوتاہی یا غفلت برداشت نہیں کی جاتی پھر اس کے بعد پورے ملک سے اکٹھا کیا جانے والا کچرا ایک بڑی سی عمارت میں لایا جاتا ہے۔اس عمارت میں اس کچرے کو جلایا جاتا ہے، یہاں جلنے والی آگ سال کے 365 دن جلتی رہتی ہے، 1000 ڈگری سیلسیئس پر جلنے والی یہ آگ سب کچھ جلا دیتی ہے۔

کچرے جلانے کے اس عمل سے بجلی پیدا کی جاتی ہے، یہ عمارت سنگاپور میں توانائی پیدا کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔اورسب سے حیران کن بات یہ ہے کہ اس عمارت سے نکلنے والا دھواں ماحول کو ذرہ برابر بھی نقصان نہیں پہنچاتا،دراصل اس عمارت میں صرف مزدور یا کاریگر موجود نہیں ہوتے جو آگ جلا کر کچرا اس میں پھینک دیں، یہاں سائنسدان اور اپنے شعبے کے ماہرین موجود ہوتے ہیں جو اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ یہاں سے نکلنے والا دھواں صاف ستھرا ہو۔

زہریلے دھوئیں کو صاف یا فلٹر کرنےکا عمل جدید سائنسی بنیادوں پراستوار اورنہایت پیچیدہ ہے،اور اس مشکل عمل کےبعد اس عمارت کی چمنیوں سے خارج سے ہونے والی ہوا بالکل صاف ستھری ہوتی ہے۔اس عمارت میں 90 فیصد کچرا جل کر غائب ہوجاتا ہے، صرف 10 فیصد راکھ کی صورت میں باقی رہ جاتا ہے۔ اس راکھ کو دور دراز واقع انسانی ہاتھوں سے بنائے گئے ایک جزیرے پر لے جایا جاتا ہے اور پانی میں ڈال دیا جاتا ہے۔

یہ پانی سمندر اور دریاؤں سے بالکل الگ تھلگ ہے لہٰذا اس میں ڈالی جانے والی راکھ یہیں رہتی ہے۔ سنگاپور کی اس حکمت عملی سے وہ پلاسٹک جسے غائب ہونے میں 500 برس لگتے ہیں، 1 دن میں غائب ہوجاتا ہے۔اور یہ سارا عمل اس قدر صاف ستھرا ہے کہ سنگاپور کا قدرتی ماحول اور حسن برقرار ہے، جنگلی و آبی حیات اور نباتات تیزی سے نشونما پا رہے ہیں اور جنگل سرسبزہیں۔

اس کے مقابلے میں کراچی جو سنگااپور سے تقریبا 4 گنا بڑا ہے اس بین الاقوامی شہر کیلئے صوبائی حکومت یا بلدیاتی ادارے آج تک یہی نہیں سمجھ پائے ہیں کہ کچرا اٹھائیں کیسے، اسے لے جائیں کیسے اور جہاں لے جائیں وہاںٹھکانے لگائیں کیسے۔۔۔؟؟ بس سب کچھ اندازوں اور ٹھیکیداروں کی ملی بھگت سے کام چلایا جارہا ہے، نہ ہی اس شہر کیلئے کچراا ٹھکانے لگانے کا کوئی جدید اور مناسب طریقہ اختیار کیا گیا نہ ہی شہر کو صاف ستھرا رکھنے کیلئے سنجیدگی سے کوئی منصوبہ بنایا گیا البتہ بیانات، دعوے اوروعدے اس قدر ہیں جتناا شاید اس شہر کا کچرا بھی نہیں ہے۔

عجیب بات یہ ہے کہ شہر میں صفائی اور کچرا اٹھانے کے نام پر سالانہ جتنا خرچہ ظاہر کیا جاتا ہے اس خرچے کو اگر 10 سال سے ضرب دیں تو اب تک سنگاپور سے زیادہ بہترین انداز میں نہ صرف کچرے کو ٹھکانے لگایا جاسکتا تھا بلکہ اس کچرے سے بجلی پیدا کرکے شہر میں لوڈشیڈنگ کے مسئلے پر قابو پایا جاسکتاہے لیکن یہ سب کام اسی وقت ممکن ہے جبک ارباب اختیار شہر، سوبے ااور اس کے لوگوں سے مخلص ہوں۔

 

Share This Article

تازه ترین