سویڈش ادارے اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ ہتھیار سعودی عرب خرید رہا ہے، وہ اس دوڑ میں سب سے آگے ہے جبکہ دنیا میں ہتحیاروں کے معاملے میں سب سے پیچھے ایران ہے آسٹریلیا حیران کن طورپردوسرے نمبر پر اور چین اور بھارت بھی اس دوڑ میں آگے ہیں۔
اگر ہتھیاروں کی خریدااری کی بات کی جائے تو دنیا کے مختلف ممالک نے سال 2018 میں تباہ کن ہتھیاروں اور جنگی جہازوں کی خریدااری پر مجموعی طور پر 18 سو 22 ارب ڈالرز خرچ کیئے ہیں جو کہ سال 2017 کے مقابلے میں 2 اعشاریہ 7 فیصد زائد ہے اور ہر سال اس مجموعی رقم میں 3 سے 5 فیصد اضافہ متوقع ہے۔ صرف سعودی عرب جو کہ ہتھیاروں کی خریداری میں دنیا مین پہلے نمبر پر ہے ہر سال اپنی مجموعی قمی آمدی کا 11 فیصد ہتھیاروں کی خیریداری پر خرچ کرتا ہے جو اربوں ڈالرز بنتی ہے۔

سویڈن کے بین الاقوامی تھنک ٹینک سپری کی تازہ رپورٹ کے مطابق آسڑیلیا سن 2017 میں چوتھی پوزیشن پرتھا جبکہ سن 2018 میں یہ دنیا کا ہتھیار خریدنے والا دوسرا بڑا ملک بن گیا ہے،اے بی سی نیوزچینل کی رپورٹوں کےمطابق آسٹریلیا نے 50 ارب آسٹریلوی ڈالرمالیت کےجنگی جہازاور آبدوزیں خریدی ہیں۔آسٹریلوی حکومت کے مطابق انہیں علاقائی خطرےکےباعث ہتھیاروں کی درآمدات میں اضافہ کرنا پڑا ہے۔
اس فہرست میں سعودی عرب اب بھی پہلے نمبرپرہے، سعودی عرب خطےمیں اپنی برتری قائم کرنا چاہتا ہے اوراس نےاسی وجہ سےحالیہ چند برسوں سے ہتھیاروں کی خریداری میں اضافہ کررکھا ہے۔ سعودی عرب ہمسایہ ملک یمن میں بھی فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور اسے یمنی حوثی باغیوں کے مسلسل حملوں کا سامنا ہے۔

جاری ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق سن 2017 میں چین ہتھیار خریدنے والےممالک کی فہرست میں چھٹے نمبر پر تھا لیکن سن 2018 میں یہ تیسری پوزیشن پر آ گیا ہے۔ چین اور پاکستان کا ہمسایہ ملک بھارت دوسرے نمبر سے چوتھے نمبر پرآ گیا ہے۔ جو ممالک ہتھیار فروخت کر رہے ہیں، ان میں سرفہرست امریکا ہے جبکہ دوسرے نمبر پر روس ہے۔ ان کے بعد فرانس اور جرمنی دو ایسے یورپی ممالک ہیں، جو ہتھیاروں کی برآمدات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ دونوں ممالک بالترتیب تیسرے اور چوتھے نمبر پر براجمان ہیں۔ پانچویں نمبر پر اس مرتبہ اسپین آیا ہے۔ 2017 میں ہتھیار برآمد کرنے والے ممالک کی فہرست میں یہ نویں نمبر پرتھا۔