بھارتی سپریم کورٹ نے آرٹیکل370کے خلاف درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے نریندر مودی کی حکومت کوجواب داخل کرنےکے لیے 4ہفتوں کی مہلت دے دی۔ 5 ججز پرمشتمل بنچ نے آرٹیکل 370 منسوخ کرنےاورکشمیر کے موجودہ حالات سے متعلق دائرکردہ درخواستوں کی سماعت کی۔
سماعت میں بھارتی حکومت کے اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے حکومت کی جانب سے جواب داخل کرانے کے لیے چار ہفتوں کا وقت طلب کیا، اتنا ہی وقت بھارت مقبوضہ ریاست کشمیر کے وکیل نے بھی جواب دہی کے لیے طلب کیا۔ بھارتی سپریم کورٹ نے جواب دہی کے لیے حکومت کو 28 دن کی مہلت دیتے ہوئے ہر صورت جواب داخل کرانے کی ہدایت کی اور کہا کہ کشمیر کے معاملے پر مزید نئی درخواستیں نہیں لی جائیں گی۔
عدالت نے درخواست گزاروں کو بھی حکم دیا کہ حکومت کی جانب سے جواب جمع کرانے کے ایک ہفتے کے اندر حکومتی جواب پر اپنا ردعمل جمع کرائیں گے۔ بھارتی سپریم کورٹ 14 نومبر کو حکومتی جواب پر درخواست گزاروں کے دلائل سنے گا۔
اس سے قبل بھارتی سپریم کورٹ نے مودی سرکار کو مقبوضہ کشمیر میں کرفیو ہٹا کر حالات نارمل کرنےکاحکم دیا تھا تاہم وہاں تاحال حالات معمول پر نہیں آسکے ہیں اور نہ ہی کرفیو ہٹایا گیا ہےعدالت نےکانگریس رہنما غلام نبی آزاد کو بھی وادی کا دورہ کرنے کی اجازت دیتے ہوئے اصل حقائق عدالت میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی تھی۔ بھارتی سپریم کورٹ میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران چیف جسٹس کا کہنا تھا ضرورت پڑی تو وہ خود بھی مقبوضہ وادی جائیں گے۔
رواں سال 5 اگست کوبھارتی حکومت نےآئینی دفعہ 370 کو ختم کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی اورکشمیرکودوحصوں میں تقسیم کردیا تھا۔ بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے پارلیمان کے ایوان بالا میں اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ لداخ کو جموں و کشمیر سے الگ کر کے وفاق کے زیر انتظام علاقہ (یونین ٹیریٹری) بنایا جارہا ہے لیکن وہاں اسمبلی نہیں ہوگی، جب کہ جموں و کشمیر کو بھی علیحدہ یونین ٹیریٹری بنایا جا رہا ہے تاہم وہاں اسمبلی ہوگی۔