میرا بچہ۔۔۔۔۔۔!!

 

ملک میں بچوں کے ساتھ پیش آنے والے نا خوش گوار واقعات کے تدارک کے لیے وزیر اعظم عمران خان نے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے میرا بچہ الرٹ نامی ایپلی کیشن کی تیاری کا حکم جاری کر دیا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم کی ہدایت پر ’میرا بچہ الرٹ‘ ایپلی کیشن 2 ہفتے میں تیار کر لی جائے گی، اس ایپلی کیشن کی مدد سے گم شدہ بچے کے درج کوائف فوری طور پر پولیس تک پہنچ جائیں گے۔

بتایا گیا ہے کہ میرا بچہ الرٹ ایپلی کیشن پاکستان سٹیزن پورٹل سے منسلک ہوگی، اس اقدام سے کسی بھی واقعے میں بچے کی برآمدگی اور کیس پر پیش رفت کے سلسلے میں نظر رکھی جا سکے گی۔کابینہ اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان نے بتایا کہ بچوں کے ساتھ غیر اخلاقی، نا خوش گوار واقعات کی تحقیقات میں بڑی کام یابی ملی ہے، اس کام یابی سے ایسے مکروہ فعل میں ملوث دیگر ملزمان تک پہنچنے میں مدد ملے گی۔

وزیر اعظم عمران خان نے اجلاس میں کہا کہ بچوں سے متعلق واقعات کو معاشرتی وجوہ کے سبب سامنے نہیں لایا جاتا، تاہم موجودہ حکومت معصوم بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرے گی۔انھوں نے کہا ایسے مکروہ اور بھیانک جرائم میں ملوث افراد کو سخت سزائیں دلوائی جائیں گی۔

 

پاکستان کے مختلف شہروں میں معصوم بچوں اور بچیوں کے اغوا اور ان کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں اور جب والدین واقعہ کی رپورٹ کرنے جاتے ہیں تو پولیس کی جانب سے تاخیری حربے اور رپورٹ کے اندراج میں بہانے بنائے جاتے ہیں، نتیجے میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور انھیں بیہمانہ قتل کے واقعات میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے اگرچہ عوام کا یہ مطالبہ ہے کہ ان واقعات کی روک تھام کیلئے ضروری ہے کہ پارلیمنٹ ایسی قانون سازی کرے کہ ملوث درندہ صفت افراد کو سرعام پھانسی دی جائے تاکہ وہ ناشن عبرت بن سکیں لیکن اس حوالے سے حکومت نے تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

میرا بچہ ایپلی کیشن اس حوالے سے اہم قدم تو قرار دی جاسکتی ہے لیکن ضروری ہے کہ اس ایپلی کیشن کی نگرانی کرنے والے افراد نہ صرف فوری کارروائی کریں بلکہ ان کے احکامات پر عملدرآمد بھی ہو تاکہ ایپلی کیشن پر درج ہونے والی شکایات کی حوصلہ افزائی ہوسکے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ درندگی کا شکار بچوں کے والدین زیادہ تر پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں ان کیلئے موبائل فون یا کمپیوٹر کا استعمال مشکل ہوسکتا ہے اس حوالے سے ماہرین کی رائے یہ ہے کہ میرا بچہ ایپلی کیشن میں یہ آپشن دیا جائے کہ واقعہ کی رپورٹ کوئی بھی قریبی عزیز، دوست یا محلے دار کرسکےساتھ ہی اس ایپلی کیشن کی نگرانی کے ذمہ دار افراد کو سوشل میڈیا سمیت دیگر ذرائع سے رپورٹ ہونے والے واقعات پر نظر رکھنے کی ہدایات دی جانی بھی ضروری ہیں، تاکہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام موثر انداز میں ہوسکے۔

Share This Article

تازه ترین

کشمیر میں لوٹس اسٹیم کی کٹائی