ڈی این اے مل گیا: بچوں سے زیادتی اور بیہیمانہ قتل کا ملزم گرفتار

 

چونیاں میں معصوم بچوں سے زیادتی کرنے والا ملزم گرفتارکر لیا گیا، یہ بات وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارنےخصوصی پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتائی، ان کا کہنا تھا کہ ملزم کا نام سہیل شہزاد اور اسکی عمر27 سال ہے.وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ معاملے کی تحقیقات سائنسی بنیادوں پرکی گئی، چونیاں واقعےکے ایک ملزم کا ڈی این اے میچ کرگیا، ملزم سہیل شہزاد سے مزید تفتیش کی جارہی ہے، میں خود اس معاملے کی نگرانی کروں گا.

انھوں نے کہا کہ ایک بچے کی لاش،3 بچوں کی ہڈیوں کے ڈی این اے سے شناخت کی، عمرے سے واپسی پرغمزدہ خاندان کے پاس گیا، انصاف کا وعدہ کیا تھا.انھوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ چاروں بچوں سے زیادتی سہیل شہزاد نامی ملزم نے کیں، متعلقہ اداروں نےبہت محنت کی، جس پران کا شکر گزار ہوں، 1649 مشکوک افرادکی جیوفینسنگ کی گئی. بچے فیضان اورعلی حسن کے کپڑوں سے ملنےوالے نمونے میچ کر گئے ہیں، ملزم سہیل ڈیڑھ سال پہلےبھی جیل جا چکا ہے

اس موقع پر آئی جی پنجاب نے کہا کہ ملزم سہیل شہزاد رانا ٹاؤن کا رہائشی ہے، ملزم نے جون میں پہلے بچے سے زیادتی کی تھی، ملزم پہلےبھی بچوں سےزیادتی کےکیس میں 5 سال سزاکاٹ چکا ہے.

تفتیشی افسران کے مطابق مقتول بچوں کی باقیات والی جگہ سے رکشے کے ٹائروں کے نشانات ملے تھے جس پر چونیاں میں 248 رکشہ ڈرائیوروں کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا، انہی میں ملزم سہیل شہزاد بھی تھا جو کچھ عرصہ قبل کرائے پر رکشا لے کر چلاتا رہا تھا۔سفاک ملزم سہیل شہزاد کو 29 ستمبر کو ڈی این اے کے لیے تھانے بلایا گیا جس پر ملزم نے لاہور فرار ہونے کی کوشش کی اور ایک مسافر وین میں سوار ہو گیا، پولیس اہلکاروں نے اسے ڈھونڈ نکالا اور وین سے اتار کر تھانے لے آئے۔

ڈی این اے سیمپل لینے بعد ملزم کو شخصی ضمانت پر چھوڑ دیا گیا اور 2 دن بعد ڈی این اے مثبت آنے پر ملزم سہیل شہزاد کو گرفتار کر لیا گیا۔پولیس کے مطابق ملزم کے خلاف 8 سال پہلے بھی چونیاں میں ہی بچے سے زیادتی کا مقدمہ درج ہوا تھا جس پر اسے سزا بھی ہوئی تھی۔

قصور کی تحصیل چونیاں میں ڈھائی ماہ کے دوران 4 بچوں کو اغواء کیا گیا جن میں فیضان، علی حسنین، سلمان اور 12 سالہ عمران شامل ہیں، ان کی لاشیں جھاڑیوں سے ملی تھیں جب کہ بچوں سے زیادتی کی بھی تصدیق ہوئی تھی۔ اس ہول ناک واقعہ سے پورے علاقے میں کھلبلی مچ گئی تھی، ویران علاقے سے لاپتا بچوں‌ کی مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئیں، ایک لاش مکمل تھی، جب کہ باقی دو کے اعضا اور ہڈیاں پائی گئیں۔وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر غفلت برتنے والے ڈی ایس پی اور ایس ایچ او کو معطل کر کے ڈی پی او قصور کو بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے چونیاں واقعے کے بعد قصور میں چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے قیام کا اعلان کیا تھا، جبکہ ااس ضمن میں تحقیقات بھی کی جارہی ہیں کہ بچوں سے زیاادتی کے زیادہ تر واقعات پنجاب کے ضلع قصور میں ہی کیوں ہورہے ہیں اس معاملے کے نفسیاتی، سماجی اور معاشرتی پہلووں کا جائزہ بھی لیا جارہا ہے۔

 

Share This Article

تازه ترین