مقبوضہ کشمیرکا لاوا اور بھارت کا ویتنام۔۔۔۔!!

 

بھارتی سپریم کورٹ کے سابق جج مرکنڈے کاٹجو نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیرمیں لاواپک رہا ہے،جلد پھٹ جائے گا ، خاتمے کا جشن منانے والوں کے لیے یہ جلد ڈراؤنا خواب ثابت ہوگا اور مقبوضہ کشمیر بھارت کا ویت نام بنے گا۔ پابندیاں اٹھائیں پھردیکھیں کس قسم کا احتجاج ہوتا ہے۔

عالمی میگزین "دی ویک” میں لکھے گئے اپنے مضمون میں انھوں نے کہا کہ انڈیا نے مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد وادی میں بڑی گوریلا جنگ کی بنیاد رکھ دی ہے۔ سچ بولنے کا ایک مقرر وقت ہوتا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ وہ وقت آگیا ہے کہ اب سچ بولا جائے۔ سچ یہ ہے کہ کشمیر انڈیا کیلئے وہ بننے جارہا ہے جو فرانسیسیوں اور امریکیوں کیلئے ویتنام بن گیا تھا، یا امریکیوں کیلئے افغانستان یا نپولین کیلئے سپین۔

انہوں نے کہا کہ آج جو لوگ آرٹیکل 370 کے خاتمے پر اپنی فتح کے شادیانے بجا رہے ہیں ان کیلئے بہت جلد یہ ایک بھیانک سپنا بننے جارہا ہے، یہ اس ڈراﺅنے سپنے کی وجہ سے تب جاگیں گے جب کشمیر سے لاشوں کے بیگ آنا شروع ہوں گے جس طرح ویتنام میں امریکیوں کے ساتھ ہوا تھا۔ سابقہ بھارتی جج کا یہ بیان اسی حقائق کی عکاسی کرتا ہے جس کا برملاا اور کئی مرتبہ اظہار پاکستانی وزیراعظم کرچکے ہیں۔

اس سے قبل کاانگریس رہنما غلام نبی آزاد انڈین سپریم کورٹ کے حکم کے تحت مقبوضہ کشمیر گئے تھے جہااں سے واپسی پہ انھوں نے بتادیا کہ کشمیر میں کچھ اچھا نہیں ہورہا، خوف و دہشت کی فضا ہے مجھے ڈر ہے کہ جب کرفیو ہٹے گا تو کشمیر میں جو ہوگا وہ نریندر مودی سرکار برداشت نہیں کرسکے گی۔

وزیراعظم عمران خان بھی  27 ستمبر کواقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سےخطاب میں دنیا کو یہ بتاچکےہیں کہ یہ سوچیں کہ جو قوم 70 سال سے اپنی آزادی کی جنگ لڑرہی ہے اوراب تک شکست تسلیم نہیں کررہی، آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد وہ کس طرح بھارتی تسلط قبول کرسکتی ہے 80 لاکھ کشمیریوں پر 9 لاکھ بھارتی افواج ظلم و ستم کررہی ہےسخت کرفیوہے، جب بھی یہ کرفیواٹھے گا کشمیریوں کا ردعمل اتنا خوفناک ہوگا کہ جس کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا میں کشمیر میں بدترین خونریزی دیکھ رہا ہوں اس سےقبل عالمی برادری بھارت کو مجبورکرے کہ کرفیو ختم کرکے کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دیا جائے ورنہ یہی آرٹیکل 370 مودی حکومت کے تابوت کی اکری کیل بن جائے گا۔

یاد رہے مقبوضہ کشمیرمیں کرفیوکا آج 59 روز ہے، معمول کی زندگی مفلوج ہے، تعلیمی ادارے، کاروباری مراکز اور ٹرانسپورٹ بند ہے جبکہ انٹرنیٹ، موبائل سروس اور ٹی وی نشریات بھی بدستور معطل ہیں، گھروں میں محصور کشمیری نہ تعلیم حاصل کرسکتے ہیں اورنہ ہی کاروبار کرسکتے ہیں۔ گھرگھر تلاشی کی آڑ میں بھارتی فوجیوں نے کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کر رہی ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر ہائی کورٹ کی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق پانچ اگست سے اب تک ایک سوچوالیس بچوں کوامن وامان خراب کرنے کا الزام لگا کر گرفتارکیا گیا ہے ، یہ گرفتاریاں غیرقانونی ہیں۔

Share This Article

تازه ترین