مقبوضہ وادی میں بچوں کی جبری گرفتاریوں کا انکشاف ، کشمیری تاحال گھروں میں محصور

 

بھارتی میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ علاقے کی ہائی کورٹ کی ایک چار رکنی کمیٹی کے سامنے بھارتی پولیس نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے پانچ اگست کے بعد سے نوبرس کی عمر تک کے بچوں سمیت ایک سو چوالیس کم عمر کشمیری لڑکوں کو گرفتارکیا ہے انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ سراسربچوں کے بنیادی حقوق کی توہین ہے کہ انھیں بغیر کسی جرم کے ایک لمبے عرصے تک عادی مجرموں کے درمیان جیل میں رکھا جائے۔ دومہینے کے بعد جیل سے رہائی پانے والے ایک کشمیری بچے محمد ابرارکے والد کا کہنا ہے کہ ابرار کو دومہینے تک بغیر کسی جرم کے جیل میں رکھا گیا اور یہاں تک کہ وہ دو مہینے تک وہی کپڑے پہنے رہا جو گمشدگی کے وقت اس نے پہن رکھے تھے ابرار کے والد کا کہنا ہے کہ ہمیں اتنی بھی اجازت نہیں تھی کہ ہم اس سے مل سکتے یا اس کو کپڑے یا کھانا دے سکتے ، ابرار ایک مستقل خوف کی کیفیت میں ہے وہ پولیس حراست کےدنوں کو سوچ کر بے چین ہو جاتا ہے اس نے اپنی والدہ کو بتایا کہ جیل میں اس کے جیسے دوسرے بچے بس رویا کرتے تھے اور اپنی موت کی دعائیں مانگا کرتے تھے اسے لگتا تھا کہ وہ جب مر جائے گاتو یہاں سے نکل پائے گا.

واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیرمیں مسلسل 59 ویں دن بھی کرفیو برقرار ہے اورپوری وادی کے معمولات زندگی مستقل مفلوج ہیں.جموں خطے کےمسلم اکثریتی علاقوں میں بھارتی فوج کی  تعیناتی   پابندیوں اور مواصلاتی ناکہ بندی نے  دکانداروں اور صارفین دونوں کے لئے بازاروں تک رسائی کو عمل طور پر ناممکن بنا دیا ہے۔ رہائشیوں کو اشیائے خورد و نوش سمیت اشیائے ضروریہ کی قلت کا سامنا ہے۔ جبکہ مقبوضہ وادی میں ادویہ کا بحران بھی شدت اختیار کرتا جا رہا ہے ، مواصلات کے تمام ذرائع معطل ہونے کی وجہ سے خاص طور پر دور دراز علاقوں میں رہنے والے لوگ ایک دوسرے کے حالات سے بے خبر ہیں ، ذرائع کے مطابق مواصلاتی نظام کی معطلی، مسلسل کرفیو اور سخت پابندیوں کے باعث لوگوں کو بچوں کے لیے دودھ، زندگی بچانے والی ادویات اور دیگر اشیائے ضروریہ کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

Share This Article

تازه ترین