پاکستان کی جیت کو یقینی بنانے والےاوپننگ بلے باز عابدعلی کو امام الحق کے زخمی ہونے کے بعد ٹیم میں شامل کیا گیا تھا انہوں نے 74 رنز سکور کرکے پاکستان کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔
عمدہ بلے بازی پرعابد علی کو مین آف دی میچ جبکہ بابر اعظم کو مین آف دی سیریز قرار دیا گیا۔
میچ کی اختتامی تقریب میں عابد علی کا کہنا تھا کہ وہ اپنی اس کامیابی پر اللہ کا جتنا بھی شکر ادا کریں وہ کم ہے، آج مجھے ایک اچھا موقع ملا جس کا میں نے بھرپور فائدہ اٹھایا ، میں اس کامیابی کیلئے ٹیم مینجمنٹ اور کھلاڑیوں کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے میری بھرپور حوصلہ افزائی کی
عابد علی نے مزید کہا کہ وہ اس موقع پر کرکٹ کے مداحوں کا بھی شکریہ ادا کریں گے جو بڑی تعداد میں میچ دیکھنے کیلئے گراﺅنڈ میں آئے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان میں مزید انٹرنیشنل میچز بھی کھیلے جائیں گے۔
نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں سیریز کے آخری میچ میں سری لنکا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ پچاس اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 297 رنز بنائے۔
پاکستان نے مطلوبہ ہدف 48 اعشاریہ 2 اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کرلیا۔
ہدف کے تعاقب میں پاکستانی اوپنرز فخرزمان اور عابد علی نے 123 رنز کا شاندار آغاز فراہم کیا، عابد علی تیزرفتار 74 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔
دوسرے ون ڈے میں سنچری بنانے والے بابر اعظم 30 رنز پر پردیپ کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔
اوپنر فخرزمان کو بھی پردیپ نے پویلین کی راہ دکھائی، وہ نسبتاً سست رفتار 76 رنز بناکر آؤٹ ہوئے، فخرزمان نے 91 گیندوں کا سامنا کیا۔
کپتان سرفراز احمد کو 23 رنز پر لہیرو کمارا نے کلین بولڈ کیا۔
حارث سہیل نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 50 گیندوں پر 54 رنز بنائے جبکہ افتخار احمد نے 22 گیندوں 28 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی۔
یوں پاکستان نے مطلوبہ ہدف 49 ویں اوور کی دوسری گیند پر حاصل کرکے نا صرف تیسرا ون ڈے جیت لیا بلکہ سیریز بھی دو۔ایک سے اپنے نام کرلی ۔ یاد رہے دونوں ملکوں کے درمیان تین میچوں کی ٹی20 سیریز کا آغاز 5 اکتوبر سے لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں ہوگا۔