اسکاٹ لینڈ کے ارل آف ڈینمور کی صاحب زادی زینب کوبولڈ نے66 سال کی عمر میں حج کی سعادت حاصل کی ، 1933 میں فریضہ حج ادا کرنے کے بعد1934میں انہوں نےاپنے سفر حج کی یادداشتیں لکھیں جس میں انھوں کار کے ذریعہ جدہ سے مکہ معظمہ تک ریگستان کے سفر کا احوال لکھا۔
زینب کوبولڈ نے اپنی یاد داشت میں لکھا ہے کہ وہ بچپن ہی میں محسوس کرتی تھیں کہ وہ مسلمان ہیں۔ لیکن پہلی بار انہوں نے پاپائے روم سے نجی ملاقات میں اچانک اعلان کیا کہ وہ
مسلمان ہیں ۔ اس بارے میں زینب کوبولڈ نے لکھا ہے کہ وہ اٹلی میں اپنے دوستوں کے ساتھ ٹھہری ہوئی تھیں۔ ایک دن اچانک ان کے میزبان نے پوچھا کہ کیا وہ پوپ سے ملاقات کریں گی ؟ انہوں نے جواب دیا . بے حد شوق سے۔ زینب نے لکھا ہے کہ جب میری پوپ سے ملاقات ہوئی تو پوپ نے پوچھا کہ کیا میں کیتھولک ہوں؟ میں اس سوال پر ٹھٹھک گئی لیکن پھر میں نے کہا کہ میں مسلمان ہوں۔ میں اس وقت تک مشرف بہ اسلام نہیں ہوئی تھی لیکن میری سمجھ میں نہیں آیا کہ مجھ پر کس بات کا غلبہ تھا کہ میں نے یہ کہا۔ اُس وقت مجھے ایسا لگا کہ کسی نے میرے ذہن میں اچانک ایک شعلہ بھڑکا دیا ہے ۔ اس کے کچھ عرصہ بعد میں نے اسلام کا باقاعدہ مطالعہ کیا اور میں نے اسلام قبول کیا۔
زینب کی پیدائش1867 کو اسکاٹ لینڈ میں ہوئی ان کا بچپن مسلم آیاؤں کے ساتھ الجزائر اور قاہرہ میں گذرا اور اسی دوران انہوں نے عربی پر بھی عبور حاصل کر لیا تھا۔ان کی شادی 1891 میں جان ڈوپیس کوبولڈ کے ساتھ ہوئی ۔ 1933میں انہوں نے اسلام قبول کیا اوران کا اسلامی نام زینب رکھا گیا
زینب کوبولڈ کا جنوری 1963میں 95سال کی عمر میں انتقال ہوا۔ ان کی نماز جنازہ ووکنگ مسجد کے امام شیخ طفیل نے پڑھائی۔انہیں اپنے وطن اسکاٹ لینڈ سے بے پناہ محبت تھی ۔ ان کی وصیت کے مطابق انہیں اسکاٹ لینڈ میں ان کی جائیداد میں سب سے اونچی پہاڑی پر دفن کیا گیا اور ان کی وصیت کے مطابق ان کی قبر پر نصب لوح پر سورہ النور کندہ ہے۔ “اللہ تعالی نورہے آسمانوں اور زمین کا”
زینب کوبولڈ کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹاتھا۔ یہ بیٹا دوسری عالم گیر جنگ کی نذر ہوگیا۔ ان کے شوہر جا ن کوبولڈ کا 1929میں انتقال ہوگیا تھا۔