سپریم کورٹ نے فاٹا خیبر ایجنسی میں لڑکیوں کا ڈگری کالج بنانے سے متعلق درخواست پر ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا
عدالت نے کہاکہ حکومت پالیسی اور وسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈگری کالج بنائے گی ، ہائی کورٹ کیسے حکومت کو مجبور کر سکتی ہے کہ فاٹا خیبرایجنسی میں ڈگری کالج بنایا جائے۔عدالت نے کہاکہ ہائیکورٹ نے جو فیصلہ جاری کیا تھا وہ درست نہیں۔
پشاوررجسٹری میں ویڈیو لنک کے ذریعے فاٹا خیبر ایجنسی میں لڑکیوں کا ڈگری کالج بنانے سے متعلق ملک زربت خان آفریدی کی درخواست پر سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نےکی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ہائیکورٹ نے ایڈیشنل پولیٹیکل ایجنٹ کا سیکریٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کو خط لکھنے پر فیصلہ کیا تھا ، ہائیکورٹ کیسے کہہ سکتی ایک ماہ میں عملدرآمد کروایا
جائے۔ چیف جسٹس نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے وسائل اور پالیسیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کام کرنا ہوتے ہیں، ایڈیشنل پولیٹیکل ایجنٹ کے خط پر ہائیکورٹ حکومت کو کیسے مجبور کر سکتی ہے۔انہوں نے کہاکہ اگر آج ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا تو غلط مثال قائم ہو جائے گی۔ ہم سپریم کورٹ میں کوئی غلط مثال قائم کرنا نہیں چاہتے، ہائیکورٹ کے فیصلے سے لگتا ہے کہ حکومت بے بس ہوگئی تھی۔ ہم سب چاہتے ہیں کہ قبائلی علاقوں میں بچیوں کے لیے کالجز اور اسکولز بنائے جائیں لیکن کالجز اور اسکولز بنانا حکومت کا کام ہے۔
جائے۔ چیف جسٹس نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے وسائل اور پالیسیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کام کرنا ہوتے ہیں، ایڈیشنل پولیٹیکل ایجنٹ کے خط پر ہائیکورٹ حکومت کو کیسے مجبور کر سکتی ہے۔انہوں نے کہاکہ اگر آج ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا تو غلط مثال قائم ہو جائے گی۔ ہم سپریم کورٹ میں کوئی غلط مثال قائم کرنا نہیں چاہتے، ہائیکورٹ کے فیصلے سے لگتا ہے کہ حکومت بے بس ہوگئی تھی۔ ہم سب چاہتے ہیں کہ قبائلی علاقوں میں بچیوں کے لیے کالجز اور اسکولز بنائے جائیں لیکن کالجز اور اسکولز بنانا حکومت کا کام ہے۔