فرانسیسی دارالحکومت پیرس کے پولیس ہیڈ کوارٹر میں چاقو بردار شخص نے حملہ کردیا جس کے نتیجے میں 4 پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے۔ پولیس کے مطابق چاقو سے لیس شخص نے پولیس ہیڈکوارٹر میں پولیس افسران پر حملہ کیا جبکہ جوابی کارروائی میں حملہ آور بھی مارا گیا۔ حملہ آور کا تعلق پولیس کے انتظامی امور کے اسٹاف سے بتایا جا رہا ہے جبکہ حملے کے محرکات سامنے نہیں آئے۔ ہلاک ہونے والوں میں تین مرد اورایک خاتون اہلکار شامل ہیں۔
حملے کے بعد نزدیکی میٹرواسٹیشن کو بند کر دیا گیا اور حملے کے وجہ جاننے کیلئے کی جارہی ہیں۔پیرس کی پولیس نے حملہ آور کے حوالے سے کوئی تفصیلات جاری نہیں کی ہیں البتہ فرانسیسی میڈیا کا کہنا ہےکہ حملہ آور کی حملہ 45 برس کے قریب تھی اوروہ 20 سال سے پولیس فورس کے انتظامی عہدے پر فرائض انجام دے رہا تھا۔ فرانسیسی وزیراعظم ایمانوئل میکرون نے متاثرہ پولیس ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا اور حملے کی مذمت کی۔
جبکہ فرانس کے وزیر داخلہ نے واقعہ کی رپورٹ ملتے ہی اپنا ترکی کا دورہ ملتوی کردیا اور جائے وقوعہ پر پہنچے ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے تاکہ یہ پتہ لگایا جاسکے کہ اس حملے کے پیچھے کیا محرکات تھے، جبکہ پولیس چیف کا کہنا ہے کہ تفتیش کی جائے گی کہ حملہ آور کا تعلق کسی دہشت گرد گروپ سے تو نہیں تھا یا یہ آپسی چپقلش تھی تاہم انھوں نے واقعہ میں کسی دہشت گردی کے امکانت کو قبل از وقت قراردیا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز ہی فرانس بھر میں پولیس اہلکاروں نے افسران کیخلاف بڑھتے ہوئے پرتشدد واقعات کیخلاف ہڑتال کی تھی۔
فرانس میں فائرنگ اور چاقو برداروں کے حملوں کا اغاز 2015 سسے ہوا جس میں اب تک 250 افراد مارے جاچکے ہیں جبکہ سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں، اگرچہ ان میں سے بیشتر واقعات کو دہشت گردی اور اسلامی عسکریت پسندوں سے جوڑا گیا لیکن کئی واقعات کی تحقیقات میں یہ بات سامنےآئی کہ بہت سے واقعات ذاتی دشمنی، نفسیاتی مسائل یا آپسی اختلافات کی بنیاد پر کیئے گئے تاہم ان کی رپورٹس عام نہیں کی گئیں۔