عراق میں پرُتشدد مظاہرے، مگر اس نازک وقت پر کیوں؟

عراق کے وزیر اعظم عادل عبدالمہدی نے ٹی وی پر عراقی عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عراقی حکومت عوام کے جائز مطالبات ماننے اور انھیں پورا کرنے کی پابند ہے اور کرپشن میں ملوث اور عوام کی خدمت رسانی میں خلل ڈالنے والے اعلی اہلکاروں کے خلاف مختلف اداروں میں کارروائی کی گئی ہے جس کے نتیجے میں ایک ہزار اہلکاروں کو عہدوں سے برطرف کردیا گیا ہے اور آئندہ انھیں کوئی بھی حکومتی عہدہ نہیں دیا جائےگا۔

عراقی وزیر اعظم نے احتجاج کو عوام کا جائز حق قراردیتے ہوئے کہا کہ بعض افراد نے عوام کے اس جائز حق کو اصلی راستے سے منحرف کرکے اپنے سیاسی اغراض و مقاصد کے لئے استعمال کرنے اور عوامی اور حکومتی اموال کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔

ایسے افراد کے ساتھ قانون کے مطابق عمل کیا جائے گا۔ عراقی وزیر اعظم نے کہا کہ گرفتار ہونے والے تمام بےگناہ افراد کو آزاد کردیا جائے گا البتہ جرائم میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائےگی۔

واضح رہے کہ عراق کے بعض شہروں میں گذشتہ دو روز سے  عوام نے مظاہرے کرکے حکومت کی توجہ مہنگائی اور بعض دیگر خدماتی امور کی طرف مبذول کی لیکن کہا جا رہا ہے کہ  بعض افراد نے عوام عوامی مظاہروں کو اپنے سیاسی اغراض مقاصد کے لئے استعمال کرنے اور عوامی و حکومتی املاک کو نقصان پہنچنے کی کوشش کی۔

عراق میں احتجاج کا آغاز ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بھی جاری ہے۔ عراق دونوں ممالک کا اتحادی ہے۔ تاہم، یہاں ہزاروں امریکی فوجی بھی تعینات ہیں۔

عراق میں بے روزگاری، بدعنوانی اور ناقص طرز حکمرانی کے خلاف منگل کو حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ مظاہرین نے دارالحکومت بغداد میں جلاؤ گھیراؤ کیا تھا جب کہ سکیورٹی فورسز سے جھڑپوں کے باعث اب تک 46 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

تہران میں نماز جمعہ کے خطبہ میں ايت اللہ امامی کاشانی نے کہا کہ سامراجی طاقتیں عراق میں اربعین کے عظيم پیدل مارچ کے خلاف ہیں اور وہ عراقی حکومت کے خلاف نئی اور گھناؤنی سازشیں کررہی ہیں۔

یاد رہے کہ اربعین پر دنیا بھر سے زائرین کروڑوں کی تعداد میں عراق کا سفر کرتے ہیں اور اس دوراں مختلف مقامات سے کربلا کی طرف مارچ کیا جاتا ہے جسے عربی میں مشی کے نام سے جانا جاتا ہے۔

بعض حلقوں کی جانب سے خیال کیا جا رہا ہے کہ ان مظاہروں کی ٹائمنگ بہت خطرناک ہے جبکہ اس وقت پاکستان سمیت پوری دنیا سے زائرین وہاں جمع ہو رہے ہیں۔ کیا اس وقت واقعی یہ ایک سازش کے تحت ہو رہا ہے اس کا جواب آنے والا وقت ہی دے گا۔

 

 

Share This Article

تازه ترین