پورا ملک ہمارا میدان جنگ اور اسلام آباد پہلا پڑاؤ ہوگا، مولانا فضل الرحمان

 

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کہتے ہیں حکومت کا جلد ہی خاتمہ ہونے والا ہے پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نےکہا کہ دھرنے کا لفظ چھوڑ دیں یہ آزادی مارچ ہے، پورے ملک سے انسانوں کا سیلاب آرہا ہے، حکومت تنکوں کی طرح بہہ جائے گی، نا اہل اور ناجائز حکومت کا جانا ٹھہر گیاہے۔

فضل الرحمان نے ملک میں نئے انتخابات کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جائز حکومت تشکیل دی جائے، اب یہ جنگ حکومت کے خاتمے پر ہی ختم ہوگی، ہماری جنگ کا میدان پورا ملک ہوگا، گرفتاریوں سے اشتعال بڑھے گا۔ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہمارا پہلا پڑاؤ ہوگا، بی اور سی پلان کی طرف بھی جائیں گے جب کہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی تبدیل کرتے رہیں گے۔ جے یو آئی کے سربراہ نے مزید کہا کہ آصف زرداری ہمارے ساتھ ہیں ،کہیں سے مایوسی نہیں، ہر پارٹی کی اپنی حکمت عملی اور ترجیحات ہوتی ہیں، حتمی طور پر سب پارٹیوں نے ساتھ دینے کا کہا ہے، اسلام آباد جانا براہے تو اس کا نام ہی کیوں ایسا رکھا۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ حکومت کا مدارس والا کارڈ فیل ہوچکا، ہمارے مدارس اس کا اثر نہیں لے رہے، مدرسوں کا ایشو بڑھا کر حکومت بین الاقوامی سپورٹ لینا چاہتی ہے، مدارس کے طلبہ میں انعامات تقسیم کرکے ہمیں کاؤنٹر کرنےکی کوشش کی گئی۔ جے یو آئی کے سربراہ نے پیشگوئی کرتے ہوئے کہا کہ ملک اس وقت معاشی بحران کا شکار ہے اور ہوسکتا ہےکہ 27 اکتوبر سے پہلے تبدیلی آجائے اور وہ تبدیلی حکومت کے استعفے کی صورت میں ہوسکتی ہے۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اگر آرمی چیف نے انھیں کسی موقع پر بھی ملاقات کیلئے بلایا تو قومی مفاد میں وہ ان سے ضرور ملیں گے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اسلام آباد جانا ہمارا آخری اور حتمی فیصلہ ہے، سب کا اتفاق ہے کہ 25جولائی کے الیکشن جعلی تھے، دوبارہ الیکشن کے مطالبے پر اتفاق رائے موجود ہے، جب انسان میدان میں اترتا ہے تو گرفتاری کی پروا نہیں کرتا۔سربراہ جے یو آئی ف کا کہنا تھا کہ آصف زرداری ہمارے مؤقف میں ہمارے ساتھ ہیں، سب سے ہمارے سیاسی رابطے ہیں، کہیں سے مایوسی نہیں مل رہی ، مدارس والا کام فیل ہوچکا ہے،اس سے طلبا اور مدارس پر کوئی اثر نہ ہوگا، عوامی سیلاب میں بہت کم تعداد مدارس کے طلبا کی ہوتی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ نیویارک میں کس سے ملاقات کی گئی یہ پاکستان کے نظام تعلیم کو مغرب کے تابع بنانا چاہتے ہیں۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ گرفتاری کا سوچ رہے ہیں تو اس سے اشتعال بڑھے گا، اشتعال قیادت کے ہاتھ میں ہے، قیادت گرفتار کی تو اشتعال رکے گا نہیں، عوام سے تصادم کی پالیسی اختیار کی گئی تو قصور کس کا ہوگا؟

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اسلام آباد کو سازشوں سے پاک کرنا ہوگا، واضح ناکامیوں کے باوجود اداروں کے ان کا ساتھ دینے پر حیرت ہے، ہم نے احتجاج کیا تو ہم عوام کی طرف کیا اس سے بڑی جمہوریت کیا ہوگی، ہم جمہوریت کے خلاف بات نہیں کررہے۔سربراہ جے یو آئی ف نے کہا کہ آزادی مارچ میں ملک بھرسےلوگ اسلام آباد آرہے ہوں گے، دھرنے وغیرہ کو چھوڑ دیں یہ آزادی مارچ ہے، ملک معاشی ،خارجہ اور داخلی محاذ پر ڈوب رہا ہے، ہم بہت سی باتیں ابھی نہیں کر رہے، وقت کے ساتھ بتائیں گے۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہم آزادی مارچ کے لیے اپنے کارکنوں سے ہی چندہ مانگ رہے ہیں، آزادی مارچ کے لیے بیرون ملک سے مدد نہیں مانگ رہے۔

Share This Article

تازه ترین