آزادکشمیر کے عوام کیا چاہتے ہیں ؟

سید خالد گردیزی

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کےبعدآزادکشمیرکی ساری سیاسی جماعتوں نےاتفاق رائےسےآزادحکومت کومینڈیٹ دیاکہ حکومت کی آوازپر لوگ ایک ہوکرباہر نکلیں گے اوردنیاسےخود کو سٹیک ہولڈر منوائیں گے۔

ضروری نہیں تھا کہ حکومت ایل او سی کراس کرنےکااعلان کرتی بلکہ حکمت عملی کا تقاضا تھا کہ حکومت سیاسی بنیادوں پر آزاد کشمیر کے جھنڈے تلے حق خودارادیت کے حصول کےنعرےکیساتھ وسیع پیمانےپراحتجاج ریکارڈکراتی مگرایسانہیں ہوسکا۔

الحاق پاکستان پرست تمام سیاسی جماعتیں اجتماعی طور پرلوگوں کے جذبات کوسمت دینےمیں ناکام رہیں۔حکومتی جماعت کےسربراہ وزیر اعظم راجہ فاروق حیدرپہلےبی بی مریم نواز کی تصویرلہراتے رہے اور پھرایک ماہ کیلئےامریکہ روانہ ہوگئے۔

واپسی پرکل جماعتی کانفرنس کےدوران انہیں شدید تنقید کانشانہ بنایاگیاتو اگلے زور انہوں نے وزیراعظم پاکستان کے منہ میں بات ڈال کرلوگوں کوعمران خان کی اقوام متحدہ کی تقریر کی امید سے باندھ دیا۔اس دوران سینٹ کیطرف سے منعقدہونےوالی کانفرنس کےدوران ایک سخت جملہ بول کراورکچھ آنسوگراکردادسمیٹی اورلمبی تان کرسوگئے۔

دوسری جانب اس عرصے میں لبریشن فرنٹ سردار صغیر گروپ کی کال پرہزاروں لوگ نکل آئے اور اب لبریشن فرنٹ یاسین ملک گروپ کی کال پربھی ہزاروں لوگوں نےلبیک کہا اورخودکو نہ صرف سٹیک ہولڈرثابت کیابلکہ ریاستی بیانیہ ہی بدل دیا ہے جس کو نہ صرف انڈین میڈیا پاکستان کے خلاف اچھال رہاہےبلکہ دنیابھرکامیڈیارپورٹ کررہاہے۔

یادرہےکہ قوم پرست جماعت کےدونوں دھڑوں کی کال پر لبیک کہنے والے لوگ قوم پرست ہی نہیں بلکہ ہزاروں لوگ الحاق پرست بھی ہیں جومقبوضہ کشمیرمیں کرفیوسمیت آئینی جارحیت کے خلاف اور حق خودارادیت کے حق میں نکلےہیں۔بیشک قوم پرستوں کے انکےاس اقدامات کےنتیجے میں مقبوضہ کشمیر کوکوئی فائدہ ہویانہ ہو۔سیز فائر لائن کراس کرپائیں یا نہ کراس کرپائیں لیکن انہوں نےآزادکشمیر کےلوگوں تنازعہ کشمیرکےحل کےتناظرمیں سٹیک ہولڈر بنا دیا ہےاور الحاق پرست جماعتوں خصوصاً موجودہ حکومت کو پالیسی ساز اداروں کے سامنے ایک سوالیہ نشان بنادیاہے۔

Share This Article

تازه ترین