منہ کےکینسر سمیت خطرناک امراض کا  سبب بننے والے انتہائی مضر صحت گٹکے کی تیاری فروخت اور استعمال پر سندھ حکومت نے قانون سازی کا فیصلہ کرلیا اس حوالے سے سندھ اسمبلی میں گٹکے کے استعمال، بنانے، ذخیرہ اور فروخت کرنے کے خلاف بل پیش کردیا گیاہے۔

سندھ اسمبلی میں پیش کیے گئے بل میں گٹکا کھانے پر ایک سے 6 سال کیلئے جیل بھیجنے اور ایک سے 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا تجویز کی گئی ہے۔

بل میں عوامی مقامات، کالجز، اسکول اور اسپتالوں میں گٹکے کے استعمال اور فروخت ممنوع قرار دی گئی ہے۔صوبے میں پہلے ہی  گٹکے کی خریدو فروخت پر پابندی عائد ہے لیکن اس کے باوجود گٹکا سرعام فروخت کیا جاتا ہے۔

سندھ اسمبلی میں قانون سازی پر وزیر اطلاعات سعید غنی کا کہنا ہے کہ گٹکےکی فروخت پر پابندی ہے لیکن عمل درآمد نہیں ہوتا لہٰذاس پر باقاعدہ قانون بنا رہے ہیں، نئے قانون کے مطابق گٹکا تیار کرنے والوں کی نہ صرف فیکٹریاں بند کرکے انھیں سرکاری تحویل میں لے لیا جائے گا بلکہ گٹکا بنانے والوں کی جائیدادیں  بھی ضبط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

بل کے مطابق گٹکا بنانے اور فروخت کرنے والوں کے گھروں میں بنا وارنٹ چھاپے بھی مارے جاسکیں گے، صوبے میں گٹکے کا کاروبار انتہائی منافع بخش سمجھا جاتا ہے اور اس میں ملوث افراد یومیہ لاکھوں روپے کماتے ہوئے ارب پتی بن چکے ہیں اسی لیئے اس مذموم کاروبار کو جاری رکھنے کیلئے پولیس اور دیگر اداروں کو بھاری بھتے دیئے جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ صوبے بھر میں گٹکے کی فروخت پولیس سرپرستی میں زور وشور سے جاری ہے۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے