لکسمبرگ کی اعلا عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ یورپی یونین کے رکن ممالک فیس بک کو دنیا بھر میں غیرقانونی مواد ہٹانے کیلئے حکم دے سکتے ہیں۔

یورپی عدالت انصاف کی جانب سے دیے گئے فیصلے کا تعلق اس درخواست سے ہے جو آسٹریاکی خاتون سیاست دان نے دائر کی تھی ۔

خاتون سیاست دان نے آئرلینڈ میں واقع فیس بک کے یورپی ہیڈ کوارٹر کے خلاف درخواست جمع کرائی گئی تھی جس میں خاتون نے ایک فیس بک صارف کی جانب سے کیے گئے متنازع تبصرے کو حذف کرنے کی اپیل کی تھی۔

یورپی عدالت کے مطابق یورپی یونین کے رکن ممالک فیس بک پر موجود ایسی ویڈیوز، تحریر ، تصاویر اور تبصروں کو ہٹانے کیلئے فیس بک کو حکم دے سکتے ہیں جو کہ متنازع اور قابل اعتراض ہوں۔

عدالتی فیصلے کے مطابق رکن ممالک چاہیں تو یورپ کی حدود سے باہر بھی موجود کسی فیس بک صارف کی جانب سے پوسٹ کیے گئے متنازع مواد کو ہٹانے کیلئے فیس بک انتظامیہ کو حکم دے سکتے ہیں۔

آزادی اظہار کی تنظیموں نے یورپی عدالت کے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے سے آن لائن سینسر شپ کا راستہ کھلے گا۔

فیس بک کا کہنا ہے کہ یورپی عدالت کے فیصلے سے ایک دیرینہ عالمی اصول مجروح ہوا ہے جس کے مطابق ایک ملک آزادی اظہار کے اپنے قانون کو کسی دوسرے ملک پر تھوپ نہیں سکتا۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے