امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان جوہری مذاکرات کسی نتیجے پرپہنچے بغیرختم ہو گئے۔ دونوں ممالک کے درمیان جوہری معاملات میں پائے جانے والے تعطل کو دور کرنے کے لیے سویڈن میں ملاقات ہوئی تھی، یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب شمالی کوریا کی جانب سے چند روز قبل ہی جدید ترین میزائل کا تجربہ کیا گیا۔

جون میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے سربراہ کم جان ان کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد یہ ممالک کے درمیان ہونے والی پہلی باضابطہ ملاقات تھی۔امریکی حکام سے ملاقات کے بعد شمالی کوریا کے سینئر جوہری مذاکرات کار کم میونگ گل نے کہا کہ مذاکرات ہماری توقع کے مطابق نہیں تھے اور ان سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔

شمالی کورین مذاکرات کار نے مزید کہا کہ امریکا سے جوہری معاملات کے حل کے لیے لچکدار، نئے اور قابل عمل تجویز پیش کرنے کی توقع تھی لیکن امریکی حکام نے ہمیں بہت مایوس کیا، امریکا نے اپنا پرانا نظریہ اور رویہ تبدیل نہیں کیا۔ دوسری جانب امریکی حکام اس بات کی تردید کرتے ہیں کہ مذاکرات بے نتیجہ ختم ہوئے، واشنگٹن کا کہنا ہے کہ شمالی کورین حکام سے مذاکرات بہت اچھے ماحول میں ہوئے، اور اس کے نتائج کچھ دنوں میں ظاہر ہوجائیں گے۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے