عبدالواجد خان
مظفرآباد
وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ ٹویٹر پر ہفتہ کے روز ایک ٹویٹ کی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں دو ماہ سے جاری غیر انسانی کرفیو میں گھرے کشمیریوں کے حوالے سے آزادکشمیر کے لوگوں میں پایا جانے والا کرب سمجھ سکتا ہوں لیکن اہل کشمیر کی مدد یا جدوجہد میں ان کی حمایت کی غرض سے جو بھی آزادکشمیر سے ایل او سی پار کرے گا وہ بھارتی بیانیے کے ہاتھوں میں کھیلے گا۔وہ بیانیہ کہ جس کے ذریعے پاکستان پر اسلامی دہشت گردی کا الزام لگا کر ظالمانہ بھارتی قبضے کے خلاف اہل کشمیر کی جائز جد وجہد سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ایل او سی پار کرنے سے بھارت کو مقبوضہ وادی میں محصور لوگوں پر تشدد بڑھانے اور جنگ بندی لکیر کے اس پار حملہ کرنے کا جوازملے گا۔
وزیراعظم پاکستان نے گزشتہ روز جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ اس حد تک درست ہو سکتا ہے کہ بھارت آزادکشمیر پر حملے کیلئے پر تول رہا ہے اور فریڈم مارچ کی آڑ میں بہت چالاکی کے ساتھ دفاع کے نام پر ناپاک حرکت کرے. تاہم بطور وزیراعظم پاکستان اور امت مسلمہ کی واحد ایٹمی پاور کے سربراہ کے طور پر یہ بیان نہایت سطحی لیول کا لگ رہا ہے۔عمران خان نے ستمبر میں دورہ مظفرآباد کے دوران یونیورسٹی گروانڈ میں خطاب کرتے ہوئے کشمیریوں سے ایل او سی کراس کرنے پر مہلت طلب کی تھی کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 27ستمبرکومیرے خطاب کا انتظار کیا جائے اور وطن واپسی پر میں کشمیریوں کو بتاؤں گا کہ ایل او سی کی جانب کب جا نا ہے اور اس مرحلہ پر میں آپ کے ساتھ ہوں گا۔کشمیری قیادت نے متفقہ ایل او سی عبور کر نے کا فیصلہ کیا تھا نے پھر اے پی سی بلاکر وزیر اعظم پاکستان کی اپیل پر ایل او سی عبور کرنے کی کال موخر کر دی۔
وزیراعظم پاکستان جنرل اسمبلی میں خوب گرجے اور برسے بہت عمدہ خطاب کیا۔مبصرین نے اسے تاریخی قرار دیامگر کشمیریوں کیلئے بھارت کی جانب سے کرفیو میں نرمی،لاک ڈاؤن کے خاتمے سمیت،اظہار رائے کی آزادی کی کوئی سہولت واپس نہ مل سکی بلکہ کشمیریوں پر بھارتی مظالم مزید بڑھ چکے ہیں اور اقوام عالم نے بھی کوئی خاص توجہ نہ دی۔اب کشمیری اپنے طور پر ایل او سی کی جانب بڑھ رہے ہیں تو انہیں بھارت کا ساتھی قرار دینا بد ترین زیادتی ہے۔ جب وزیراعظم پاکستان خود ایل او سی کی کال دینا چاہتے تھے اس وقت بھارتی بیانیے کی بات کسی نے نہیں کی،کشمیری ایل او سی کو نہیں مانتے وہ اسے سیز فایر لاین کہتے ہیں اور آزادکشمیر کے وزیر اعظم نے چودہ اگست 2019 کو قانون سازاسمبلی کے خصوصی اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کے سامنے اعلان کیا کہ آزادکشمیر حکومت جلد نوٹی فکیشن کے زریعے ایل او سی کو باضابطہ سیز فایرلاین قرار دے گی. کشمیریوں کا متفقہ بیانیہ ہے کہ وہ سیز فایر لاین عبور کریں گے کیا سب کشمیری بھارت کے لئے کام کر رہے ہیں اس بیان پر سوائے افسوس کہ اور کچھ نہیں کہا جاسکتا. خیر 27ستمبر بھی گزر گئی اور کشمیر پر عالمی سطح کی کوئی پیش رفت بھی نہ ہو سکی۔ اس کا دوش کس کو دیں کیا یہ خارجہ سطح پر ناکامی نہیں ۔ ؟
آج نہایت متحمل مزاجی کی ضرورت ہے حکمران کو دانا اور حکیم ہونا چاہیے جو بڑے سے بڑے طوفان کو بھی بند الفاظ کے ذریعے باندھ سکے مگر اس بیان پر کشمیری خصوصاً ایل او سی چکوٹھی سیکٹر کی جانب بڑھنے والے ہزاروں افراد کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے اس کا ازالہ آج ہی کرنا ضروری ہے۔ہماری ان سطور کے ذریعے جے کے ایل ایف کی قیادت سے بھی گزارش ہے کہ قیمتی انسانی جانوں کا خیال کرتے ہوئے لائن آف کنٹرول عبور کرنے سے پرہیز کیا جائے اس وقت سرحدوں پر صورتحا ل کشیدہ ہے اور ایل او سی کے تیرہ حلقوں کے عوام شدید کرب اور اذیت میں مبتلا ہے انہیں مزید پریشانی اور تکلیف سے بچانے کے لیے بہتر ہے کہ ایل اوسی سے چند کلو میٹر پیچھے بھرپور پر امن احتجاج ریکارڈ کر وایا جائے۔عوامی جذبات کی ترجمانی اس مارچ سے بہتر کوئی اقدام نہ تھا اوروہ سینکڑوں کلومیٹر دور سے سفر کرکے بھارت تک پیغام پہنچا دیا گیا کہ آزادکشمیر کی عوام اپنے بھائیوں کے تحفظ اور سلامتی کیلئے خونی لکیر بھی عبور کر سکتے ہیں۔ مگر کم از کم انکو بھارتی ہمنوا نہ کہا جائے۔