وفاقی وزیر برائے  اقتصادی امور  حماد اظہر کا کہنا ہے کہ سابق حکومت نے اپنی سیاست بچانے کیلئے سخت فیصلے کرنے میں تاخیر کی۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ہر مستحق شخص کو بلاتفریق صحت انصاف کارڈ فراہم کیا جائے گا اور اس کا آغاز لاہور سے کیا جارہا ہے جس سے 30 سے 35 ہزار گھرانے اِس سہولت سے مستفید ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان کی تاریخ کا ریکارڈ ساڑھے 10 ارب کا قرضہ واپس کیا، ہمیں سخت فیصلے کرنے پڑے جس کے ثمرات نظر آنے لگے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو معیشت کے حوالے سے سخت فیصلے کرنے پڑے لیکن حکومت نے اپنی سیاست بچانے کیلئے سخت فیصلے کرنے میں تاخیر کی، مشکل فیصلوں کی وجہ سے اب حالات میں بہتری آرہی ہے۔حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پاس جانے کا فیصلہ تاخیر سے لیا تھا جس کے باعث اپوزیشن نے سخت تنقید کی تھی۔

حماد اظہر کا کہنا تھا کہ سابق حکومت کے غلط فیصلوں کے باعث بجلی کی قیمتیں بڑھانا پڑیں، روپے کی قیمت میں استحکام اچھا اشارہ ہے، اب معیشت کی رفتار میں تیزی نظر آئے گی جو خساروں، قرضوں، سبسڈی اور درآمدات کی بنیاد پر نہیں ہوگی بلکہ روزگار، سرمایہ کاری اور زراعت کی بنیاد پر ہوگی۔آرمی چیف سے تاجروں کی ملاقات سے متعلق وفاقی وزیر نے کہا کہ کاروباری افراد کا وفد آرمی چیف سے بہترین گفتگو کے بعد خوش ہوکرواپس گیا، آرمی چیف کی طرف سے پیغام دیا گیا کہ ملکی استحکام کو خطرے میں ڈالنے نہیں دیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اِس وقت تمام ادارے ایک پیج پر اور قومی مقاصد کیلئے ہم آہنگ ہیں، 5 سال میں سب ادارے مل کر پاکستان کو عظیم ملک بنائیں گے۔خیال رہے کہ گزشتہ دنوں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے تاجر وں کے وفد سے ملاقات کی تھی جس میں حکومتی معاشی ٹیم بھی شریک تھی۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی خسرو بختیار کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے کام کم اور تشہیر زيادہ کی ہے۔

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے