سعودی عرب میں غیر شادی شدہ جوڑے اب ساتھ رہ سکیں گے

 

سعودی عرب نے اصلاحات کے نام پر وہ سارے کام شروع کردیئے ہییں جنھیں مغرب نے پہلے سے اپنایا ہوا ہے لیکن شریعت اس کی اجازت نہیں دیتی، غیرملکیوں  کے لیے سیاحت کے دروازے کھولتے ہوئے سعودی حکومت ایسے بہت سے قوانین میں نرمی کر رہی ہے، جن کی وجہ سے غیر ملکی خواتین اور مردوں کو الگ الگ رہنا پڑتا تھا۔ تاہم اب سعودی عرب کا دورہ کرنے والے کسی بھی غیر ملکی جوڑے کو ہوٹل میں قیام کی خاطر  شادی شدہ ہونے کی سند پیش کرنے کی ضرورت نہیں۔ ان اصلاحات کا اطلاق صرف غیر ملکیوں پر ہو گا۔

اس حوالے سے سعودی سرکاری اہلکاروں کے مطابق اب غیر ملکی غیر شدہ جوڑے بھی ہوٹلوں میں ایک ساتھ قیام کرسکیں گے،ایک ہی کمرے میں رہنے کے لیے اب انہیں خود کو شادی شدہ ثابت کرنے کی ضرورت بھی نہیں۔ سیاحت اور قومی ثقافتی ورثے کے سعودی کمیشن نے بتایا، کسی بھی ہوٹل میں قیام کے وقت تمام سعودی شہریوں سے ان کی خاندانی شناخت یا ان کے ازدواجی رشتے کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ تاہم یہ قانون غیر ملکی سیاحوں کے لیے نہیں۔

قدامت پسند سعودی عرب میں سخت اسلامی قوانین نافذ ہیں، جن کی روسے شادی سےقبل جنسی روابط یا پرپابندی ہے،تاہم ابھی حال ہی ریاض حکومت نےغیرملکی سیاحوں کے لیے آن لائن ویزا کی سہولت مہیا کی ہے،سعودی حکومت کی یہ کوشش ہے کہ سن 2030 تک مقامی اور غیر ملکی سیاحوں کی تعداد ایک سو ملین تک پہنچ جائے۔ سعودی حکام نے اسے ایک تاریخی موقع قرار دیا ہے۔

سعودی عرب میں اس دوران کئی شعبوں میں اصلاحات کی جا چکی ہیں۔ جیسا کہ 2018ء میں خواتین کے گاڑی چلانے پر سے پابندی اٹھا لی گئی تھی اور اس سال کے آغاز سے خواتین کو ملک سے باہر جانے کے حق بھی دیا گیا تھا۔ اس دوران سعودی حکام نے ایک اور پابندی بھی ختم کر دی۔ اب خواتین بھی تنہا ہوٹل کا کمرہ کرائے پرلےسکتی ہیں اوراس کے لیےانہیں کسی مرد سر پرست کی ضرورت نہیں ہوگی۔ محکمہ سیاحت کے مطابق،تمام خواتین، جن میں سعودی شہری بھی شامل ہیں، تنہا ہوٹل کا کمرہ بک بھی کر سکتی ہیں اور قیام بھی۔ انہیں چیک ان کے وقت صرف شناخت ظاہر کرنا ہو گی۔

Share This Article

تازه ترین