بی بی سی نے عراق میں نکاح متعہ کے متعلق ایک رپورٹ شائع کی ہے جس پر ہر شخص اپنے اپنے انداز میں رد عمل ظاہر کر رہا ہے۔ جو شخص بھی مکتب اہلبیت(ع) میں نکاح موقت (متعہ) کے احکام سے واقف ہے وہ یہ بخوبی درک کر سکتا ہے کہ اس رپورٹ کی کچھ بنیاد کم علمی پر ہے، اور کچھ بنیاد اس کے احکام کو سمجھے بغیر اس پر عمل کرنے پر ہے، اور اس کی کچھ بنیادوں میں شرپسندی بھی شامل ہے۔

اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ فقہ جعفریہ میں صدر اسلام کی طرح آج بھی نکاح متعہ جائز ہے۔ دیگر مسلمان مسالک اس معاملے میں مختلف رائے رکھتے ہیں لیکن اس بات پر تقریبا سبھی متفق ہیں کہ اسلام کے اوائل میں نکاح موقت یعنی متعہ جائز تھا۔ جس شئے کو رسول اللہ(ص) جائز کہیں اور اصحاب رسول (رضی اللہ عنھم) انجام دیں اس کو قبیح و فحش تو ہرگز قرار نہیں دیا جا سکتا، ہاں فقہی بنیادوں پر اس کی تاقیامت حلیت پر بحث ہو سکتی ہے۔

نکاح متعہ میں مہر اور مدت کا تعین ہونا ضروری ہے، یعنی مرد اور عورت کو پہلے سے ہی مہر اور مدت کا علم ہو۔ اس کی زیادہ سے زیادہ اور کم سے کم مدت طے نہیں ہے۔ یہ پہلو بھی زیر غور ہے کہ اسلامی ریاست اس معاملے میں کم سے کم مدت کی شرط رکھ سکتی ہے جیسے ایک سال یا پانچ سال۔ نیز نکاح موقت میں اسی طرح سے عدّت ہوتی ہے جس طرح سے نکاح دائمی میں ہوتی ہے۔ جب بھی اس نکاح کی مدت ختم ہو یا وقت معین سے پہلے نکاح ختم کیا جائے یا شوہر کا انتقال ہو جائے تو عورت پر عدّت لازمی ہے۔ اور اگر اس دوران حمل ٹھہر گیا تو بچہ اپنے والد سے ملحق ہوگا اور اس کی کفالت کی ذمہ داری والد پر ہوگی۔

متعہ کہتے ہی ہمارے اذہان میں ایک رات کی لطف اندوزی آتی ہے حالانکہ متعہ کو بہت وسیع انداز میں لیا جا سکتا ہے۔ دنیا کے مختلف علاقوں میں عام شادی میں بھی پچاس سال یا لمبی مدت کے لئے نکاح موقت یعنی متعہ کے صیغے پڑھے جاتے ہیں، جیسا کہ پاکستان کے شمالی علاقے بلتستان میں اب بھی رائج ہے۔

بعض جگہوں پر منگنی کے بعد رخصتی تک نکاح متعہ پڑھا جاتا ہے اور یہ تقریبا دنیا بھر کے شیعہ دینی گھرانوں میں مرسوم ہے۔ منگنی کے بعد عموما لڑکا اور لڑکی باہم گفتگو کرتے ہیں یا ساتھ بیٹھتے ہیں، اس وجہ سے حرام سے بچنے کے لئے گھر والے عموما نکاح موقت پڑھ دیتے ہیں۔ ایسا عموما اس لئے کیا جاتا ہے کیونکہ نکاح موقت (متعہ) ایک متروک سنت ہے، چنانچہ اس بہانے اس کا احیاء ہو جاتا ہے اور منگنی کی غیر شرعی رسم کی جگہ نکاح کا مسنون طریقہ اپنایا جاتا ہے۔

جہاں تک بی بی سی کی رپورٹ کا تعلق ہے اس میں محض بات کا بتنگڑ بتایا گيا ہے۔ نکاح متعہ میں مدّت کا معین ہونا ضروری ہے، ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ لڑکی کو دھوکے میں رکھا گیا ہو اور اس کو مدت کا علم نہ ہو، اور اچانک سے شوہر غائب ہو جائے، جیسا کہ اس رپورٹ میں ایسی فیک کہانیاں فرضی ناموں سے پیش کی گئی ہیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ متعہ کبھی بھی باکرہ لڑکی سے نہیں ہوتا، اور تیسری بات یہ ہے کہ نکاح متعہ کے بعد عدت لازمی ہے۔ اس کو فحاشی کے اڈوں سے تشبیہ دینا درست نہیں جہاں عدت کا التزام نہیں ہوتا۔

چوتھی بات یہ ہے کہ تحریر میں چائلڈ میرج اور متعہ کو خلط کیا گیا ہے۔ اگر عراق میں نکاح سینٹرز میں والدین اپنی چھوٹی بچیوں کے نکاح کے لئے کھڑے ہیں تو اس کا متعہ سے کیا تعلق؟ عربوں کی طبیعت میں کم عمری کی شادی پائی جاتی ہے۔ والدین اپنی خوشی سے بچیوں کی کم عمری میں شادی کرتے ہیں اور بچیاں خود بھی اپنی مرضی سے شادیاں کرتی ہیں۔ اس کا تعلق عرب کلچر سے ہے۔ گو کہ اس کا سدباب کیا جا رہا ہے لیکن تبدیلی آتے ہوئے وقت لگے گا۔

پانچویں بات یہ کہ اگر کہیں متعہ کا غلط استعمال ہو رہا ہے تو اس سے اصل حلیت پر فرق نہیں پڑتا۔ یوں تو نکاح دائمی کا بھی غلط استعمال ہوتا ہے۔ مغرب کو بغیر کسی عقد کے ازدواجی تعلقات پر فکر کرنی چاہیے جو ان کے ہاں رائج ہے جس کی وجہ سے فیملیز تباہ ہو چکی ہیں۔ اولاد پیدا ہو کر بڑی ہو جاتی ہیں جبکہ ہنوز ماں باپ نے ابھی شادی نہیں کی ہوتی۔ یا پھر اس طرح کے آسان تعلقات کی وجہ سے مغرب میں لوگ شادی نہیں کرتے اور تولید نسل کی طرف توجہ نہیں کرتے، نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہاں بانجھ پن میں اضافہ ہو رہا ہے اور آبادی میں اضافہ وسائل کے لحاظ سے نہیں ہو رہا، بلکہ کچھ جگہوں پر آبادی کم ہوتی جا رہی ہے۔

چھٹی بات یہ ہے کہ جملہ شیعہ مراجع متعہ کے غلط استعمال کے مخالف ہیں۔ اس کو اس طرح سے استعمال کرنا کہ اس کی شباہت زنا سے ہو جائے درست نہیں۔ جیسا کہ خود اس رپورٹ کے آخر میں آیت اللہ العظمی سید علی سیستانی کے دفتر سے پوچھے گئے استفتاء کا حوالہ دیا گیا ہے۔

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ

سید جواد حسین رضوی

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے