ڈاکٹروقاص کی ڈائری سے

صبح صبح کا وقت تھا اور پی ٹی وی پہ قدرے سنجیدہ نوعیت کاپروگرام چل رہا تھا کہ ایک گرج دار آواز نے سارا منظر ہی
بدل ڈالا۔ سمجھنا چاہا کہ ہوا کیا ہے لیکن جب تک سمجھ آتا کافی کچھ تہس نہس ہو چکا تھا میں ، میرےخواب  میں جو ایک بین الاقوامی کھلاڑی بننا چاہتا تھا بیڈمنٹن کا  آزاد کشمیر انڈر نائنٹین میں کھیل رہا تھا اس وقت اپنے ارادوں کو اپنے خوابوں کو مٹی میں ملتے دیکھ رہا تھا کیونکہ لمحوں کی سرزنش تھی قدرت کی طرف سے اور میں اپنے کمسن بھائی کے ساتھ  اپنے ہی مسکن کے ملبے کودفن ہوتا چلا  جا رہا تھا میں سانس لے رہا تھا لیکن میرے گھر کی خاک میرے اندر جا رہی تھی مجھے زندگی میں سانس لینا کبھی اتنا مشکل نہ لگا تھا ۔

لوگ کسی قیامت صغری کو کتابوں میں پڑھتے ہیں ہم نے دیکھی ہے وہ قیامت اپنی آنکھوں سے اور ہم کشمیر یوں نے محسوس کی ہے اپنے اندر اترتی لمحہ بہ لمحہ موت کی صورت میں آٹھ اکتوبر کی صبح کو جو اب تاریخ بن چکی ہے ، لیکن اس کا کرب اس کا  خوف اس کی بے بسی آج بھی نس نس میں سرایت کر جاتاہے اس قیامت صغری نے  نہ شجر دیکھا نہ حجر، نہ چرند نہ پرند، نہ انسان نہ حیوان – بس دیکھا تو ہم انسانوں ہنستا بستا جہاں جو دیکھتے ہی دیکھتے اجڑتا چلا گیا ۔

میں ملبے کے نیچے سانس لے رہا تھا اور محسوس کر رہا تھا کہ بدترین قدرتی آفت کے آگے زندگی دھیرے دھیرے دم توڑنے لگی ہے ،  آہوں اور سسکیوں کی آواز میرے کانوں میں اتر رہی ہے لیکن میں کچھ کر نہیں پا رہا ، میرے اوپر چھت آن گری تھی  ۔ عجیب بےبسی اور لاچار گی تھی اور وقت کی ڈورڈھیروں ارمانوں کا بوجھ لیے ہاتھ  سے سرکتی جارہی تھی ۔ گھٹن میں سانسوں کا رکنا کیا ہوتا ہے  ، اور سانس رکنے سے موت کا آناکیا ہوتا ہے یہ سب مجھ پر بیت رہی تھی اور میں جانتا تھا کہ پتا نہیں کب تک میں اپنے بھائی کے ساتھ اس ملبے تلے دبا ہوں گا اور پھر اسی طرح دم گھٹنے سے مر جاؤں گا میں نے موت کو قریب سے دیکھا اس جملے کی حقانیت اور کربناکی کیا ہے یہ کوئی مجھ سے پوچھے ۔ اور اس وقت میں یہ بھی سوچ رہا تھا کہ جو کچھ ہوا ہے شاید میرے ہی ساتھ ہو رہاہے اور میں نے اس ملبے سے نکلنے کے لیے ہاتھ پاؤں مارنے شروع کیےاور شاید میں خود کو اس کوشش میں کامیاب بھی کرپاتا لیکن یکدم زلزلے کی شدت کے آگے  خون کے رشتوں کی حدت اور کشش آگئی میں پلٹ کر اپنے بھائی کےپاس آگیا میں نے اسے اپنے اندر سمیٹ لیا۔ہم ایک دوسرے کی ڈھارس بنتے گئے  زلزلہ آ کر گزر گیا لیکن چھت اور دیواروں سے سرکتے پتھر، مٹی کے ٹیلے اور لکڑی کی بیم ،ایک ایک کر کے ہمارے اوپر گرتے گئے اورہم خود پر اس آفت کی صربیں محسوس کرتے رہے ، اب خیال یہ ہی تھا کہ یہاں سے ہمیں کوئی نہیں نکال پائے گا اورباقی سب بھی مر گئے ہوں گے اور وہ ہمیں بھی مرا ہوا سمجھ رہے ہوںگے تب ہی جیسے کہیں کسی دراڑ سے زندگی کی امید محسو س ہوئی ، اندھیرے میں روشنی کی کرن کی طرح وہ زندگی کی امید کسی دیوار کے مکمل زمین بوس ہوجانے کے بعد پیدا ہوئی تھی  اور اسی لمحے کہ جب میں خاک میں اٹی ہوئی آواز نکالتا کسی کو مدد کے لیے پکارتا ایک زوردار جھٹکا مجھے اپنے بھائی سے جدا کر گیا ، یہ آفٹر شاکس تھے یا گھر کے ملیا ملیٹ ہونے کا آخری لمحہ کچھ نہیں پتا بس اتنا پتا ہے کہ اس کے بعد مسلسل اندھیرا تھا ، خاک تھی ، سن ہوتا جسم ، رکتی سانسیں، منوں ٹنوں وزن ۔۔ زندگی اور موت کے بیچ چند ساعتوں کا فاصلہ ، اس کے بعد کی روداد شاید لکھ نہ پاؤں نہ الفاظ ھیں اور نہ سکت۔

تقریباًتین سے چار گھنٹے کی  موت اور حیات کے بیچ کی کشمکش الم ناک تو ہے  پرزندگی کا حاصل بھی،  موت اور زندگی کا دلچسپ مکالمہ تھا۔

زندگی ہارنے کو تیارنہیں اور موت ٹلنے کو،  کم سن  کے سوال بھی عجیب ، بھیا سانس میں مٹی جا رہی ہے، سانس بند ھو رہا ہے ، مجھے باھر نکالو، مرا بازوٹوٹ رہا ہے بھیا میں مرجاؤں گا وہ وقفے وقفے سے پوچھتا ہم یہاں سے کیسے نکلیں گے اور میرے پاس اس کے سوال کا جواب نہیں تھا کیونکہ یہ تو میں خود نہیں جانتا تھا کہ ہمیں یہاں سے کون نکالے گا ہم یہاں سے کیسے نکلیں گے یہ جو قیامت یہاں اندر ہے اگر ایسی ہی باہر بھی ہوئی ہو گی تو پھرکون بچا ہوگااف امی ، امی کہاں ہیں میں یکدم چیخ پڑا امی اور پھر اس کے بعد کیا ہوا کچھ یاد نہیں ہاں بس اتنا یاد ہے کہ بہت سارا وقت گزر چکا تھا اور میرا بھائی میری گود میں سر رکھے بلک رہا تھا

معجزاتی طور پر ھم دونوں بچ گئے اسی لیے آج اس کرب کو لکھنے کے قابل ہوں۔

مسلسل ایک سال اسپتال کی زندگی ، کھیل سے تاحیات رخصت ، اور پھر اس کے بعد تعلیم کو جاری اور ساری رکھنے کا عزم لیے وقت گزرتا گیا دنیا کے بہترین اداروں میں پڑھنے اور چند میں اپنا نقطہ نظر پیش کرنے کا موقع ملا ۔ اور بفضلِ خدا اپنی فیلڈ میں کم عمر ترین پی ایچ ڈی ھونے کا اعزاز حاصل ہوا۔

المختصرآٹھ اکتوبر کے بعد سب کچھ بدل سا گیا ۔ نہیں بدلا تو سماج کا رویہ نہ بدلا- بغیر چھان بین کے بے ہنگم تعمیرات جاری ہیں ، سرکار کی نا اہلی کی وجہ سے بے شمار سرکاری سکولوں کی ناپختہ تعمیرات میں بچے پڑھنے پر مجبور ہیں  اور روایتی بے حسی کا شکار زلزلہ متاثرین کی قابل ترس زندگیاں بھی ان گزرے سالوں میں بہتر نہ ہوسکیں ۔ سترھزار لوگ لقمہ اجل بن گے تھے اس وقت لیکن ہم میں سے شاید  سترلوگوں نے اس سے سبق نہیں سیکھا ، نہ ہمیں فرسٹ ایڈ  دینا آیا اور نہ ہی ہماری حکومتوں نے ایمرجنسی سے نمٹنے کے کوئی انتظام کیا ، ستم بالائے ستم مارکیٹیں،اسکول،سرکاری عمارات، پہلے سے بھی بھاری بھرکم کنکریٹ اور ناقص تعمیرات  کے ساتھ منہ چڑھا رہی ہیں۔ حادثات رویے بدل دیتے ہیں۔ پر یوں لگا شاید اس حادثے نے ہمارے بے حس رویوں کو مزید پختہ کردیا ۔

ابھی میرپور کا زلزلہ آیا اور میں پھراسی کرب میں چلا گیا ، ہم قدرتی آفتوں کو ہونے سے نہیں روک سکتے لیکن ہم قدرت کی دی ہوئی عقل کو استعمال کرتے ہوئے اس آفت ناگہانی کو انسانی المیہ بننے سے تو روک سکتے ہیں ۔

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے