پاکستان اور بھارت میں خصوصاً جبکہ عرب ممالک اور کئی یورپی ممالک میں اب پیشہ ور بھکاریوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے، پاکستان اور بھارت میں تو آپ کو ہر چوک، ہر گلی، ہر بازار اور ہر مسجد  و مندر کے باہر بھکاریوں کا غول کا غول نظر آئے گا، ان بھکاریوں کا ایک متفقہ فارمولا ہے جو دنیا بھر میں استعمال کیا جاتا ہے وہ ہے، ” ہر کسی سے مانگو، ہر جگہ مانگو، ہر وقت مانگو”۔

پاکستان میں ایسے بہت سے واقعات سامنے آچکے ہیں کہ کسی بھکاری کی موت یا پولیس کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد پتہ چلا کہ پھٹے پرانے کپڑے پہنے اور بدبودار جسم لیئے اس بھکاری کا عالیشان مکان اور بینک میں لاکھوں کروڑوں روپے موجود ہیں لیکن چونکہ بھیک مانگنا ان کے نزدیک ایک ایسا پیشہ ہے جس میں کوئی سرمایہ کاری بھی نہیں لگتی اور نقصان کا اندیشہ بھی نہیں بلکہ صرف منافع ہی منافع ہے تو ایسا کام چاہے وہ ذلیل و کمتر ہی کیوں نہ ہو اسے یہ لوگ کیسے چھوڑ  سکتے ہیں۔؟؟ اس لیئے بھکاریوں کی تعداد میں آئے دن اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔

پیشہ وربھکاریوں اور انھیں چلانے والی مافیا کی الگ ہی کہانیاں ہیں لیکن تازہ رپورٹ کے مطابق انڈیا کے صنعتی دارالحکومت کہے جانے والے شہر ممبئی میں ایک بھکاری کی حادثے میں موت کے بعد اس کی جھونپڑی سے لاکھوں کی نقدی ملی ہے، 82  سالہ برادی چند پننا رام جی آزاد عرف ‘سادھو بابا’ گوونڈی اور مانخرد ریلوے سٹیشنز کے درمیان پٹڑی پار کرتے ہوئے ٹرین کے نیچےآ گیا تھا۔

پولیس کے مطابق وہ راجستھان کے ایک گاؤں کا رہائشی تھا لیکن ایک عرصے سے ممبئی میں سکونت پزیرتھا اور ریلوے سٹیشنوں پر بھیک مانگا کرتا تھا۔اس کی موت کے بعد جب تفتیش شروع کی تو پولیس گووندی کی کچی بستی میں اس کی جھگی تک پہنچی جہاں حکام کو پونے دو لاکھ کی ریزگاری ملی۔ اس کے علاوہ بینک میں فکسڈ ڈپازٹ کی شکل میں آٹھ لاکھ 77 ہزار روپے جمع کروانے کی دستاویزات بھی وہاں موجود تھیں۔

‘سادھو بابا‘ کی موت کے بعد 5 افراد نے ممبئی پولیس سے رجوع کیا ہے کہ وہ اس کے وارث ہیں تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ دستاویزات کی تصدیق کے بعد ہی اس بارے میں فیصلہ کیا جائے گا،پولیس نے کہا کہ مذکورہ بھکاری کے دو بیٹے ہیں اور فکسڈ ڈپازٹ میں صرف ان کے بڑے بیٹے کا نام وارث کے طور پر درج ہے۔پولیس افسر نند کشور نے بتایا کہ ان کے گھر سے تقریبا ڈیڑھ لاکھ کے سکے ملے جن میں 50 پیسے، ایک روپے، دو روپے اور پانچ روپے کے سکے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے بینک میں 96 ہزار روپے بھی جمع پائے گئے ہیں۔

یہ ریزگاری ٹن کے ڈبوں، پانی کی ٹنکیوں اور جھونپڑی میں مختلف جگہ پر چھپائی گئی تھی۔پولیس نے بتایا کہ چار اکتوبر کو حادثے کے بعد بھکاری کو راجا واڑی ہسپتال لے جایا گیا لیکن وہاں انھیں مردہ قرار دیا گیا۔ جھگی سےاس کے پین کارڈ اور آدھار کارڈ کے علاوہ ووٹر شناختی کارڈ اور سینیئر سٹیزن کے کارڈ بھی ملے۔

انڈیا میں یہ بھی پہلا موقع نہیں ہے جب کسی بھکاری کی موت کے بعد اس کے پاس سے بڑی رقم ملی ہو۔انڈین میڈیا کے مطابق رواں سال انڈیا کی جنوبی ریاست آندھر پردیش کے آننت پور ضلعے میں ایک 75 سالہ بھکاری کے پاس سے تین لاکھ 20 ہزار روپے ملے تھے۔ وہ گنتاکل میں مستان ولی درگاہ کے سامنے بھیک مانگا کرتا تھا۔

پولیس کا کہنا تھا کہ انھیں مستان ولی درگاہ سے فون آیا کہ کوئی شخص درگاہ کے احاطے کے باہر مردہ پڑا ہے۔ پولیس نے جب ان کے جسم کے ساتھ پڑے بیگ کو کھولا تو ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی کیونکہ اس میں تین لاکھ 20 ہزار روپے تھے۔

پاکستان اور بھارت کے علاوہ آج سے تقریباً 5 برس قبل سعودی عرب میں بھی ایک واقعہ پیش آیا تھا جہاں ایک بھکاری کو سعودی پولیس نے بھیک مانگتے ہوئے گرفتار کیا تھا۔ لیکن اس کی خاص بات یہ تھی کہ اس کے بینک اکاؤنٹ میں 12 لاکھ سعودی ریال پائے گئے اور وہ ایک مہنگی لگژری جیپ چلاتا تھا۔

پولیس نے گرفتار شخص کا نام ظاہر نہیں کیاتاہم پولیس کے مطابق یہ قریبی خلیجی ملک کا باشندہ  اور سعودی عرب سیاحتی ویزے پر اپنی اہلیہ اور تین بچوں کے ہمراہ آیا تھا پولیس نے مزید بتایا کہ یہ شخص اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ مغربی شہر ينبع میں ایک عالی شان اپارٹمنٹ میں رہ رہا تھا، سعودی عرب میں بھیک مانگنا اس لحاظ سے ایک منافع بخش پیشہ  اورخاص طور پر رمضان کے مہینے میں کہ وہاں بھیک میں ریال اور  دوسرے ممالک سے آئے ہوئے لوگ اپنی کرنسی بھیک و خیرات کی صورت میں دیتے  ہیں اور ایک اندازے کے مطابق مخصوص دنوں میں ایک بھکاری اوسطً یومیہ 50 ہزار سے 1 لاکھ روپے بھیک کی صورت میں جمع کرلیتا ہے۔ اسی طرح دبئی پولیس نے بھی کچھ عرصہ قبل ایک بھکاری کو گرفتار کیا تھا جس کے بارے میں انکشاف ہوا کہ اس کی یومیہ بھیک کی آمدنی 11 ہزار اماراتی درہم یعنی ساڑھے 3 لاکھ روپے روزانہ اور ماہانہ تقریباً ایک کروڑ روپے بنتی تھی۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے