ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے کمیونیکشن ڈائریکٹر فخرتن التون نے کہا کہ ترک فوج، شامی باغی فورسز فری سیریئن آرمی کے ساتھ مل کر ‘کچھ دیر بعد‘ شامی سرحد عبور کرے گی۔ترکی کی طرف سے یہ پیشرفت شام کے شمالی حصے سے امریکی فورسز کے غیر متوقع انخلاء کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس فیصلے کے تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر امریکا کے اندر بھی بہت زیادہ تنقید کی جا رہی ہے جبکہ کُرد ملیشیا نے اس امریکی فیصلے کو کُردوں کی پیٹھ میں چُھرا گھونپنے کے مترادف قرار دیا ہے۔

منگل آٹھ اکتوبر کو ترک حکام نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا تھا کہ فوج نے شامی عراقی سرحد پر کارروائی کی ہے جس کا مقصد کُرد فورسز کو شام کے شمالی حصے کی طرف جانے سے روکنا تھا۔ کُرد فورسز وہاں اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کی کوشش میں ہیں۔صدر ایردوآن کے کمیونیکشن ڈائریکٹر فخرتن التون نے کرد ملیشیا وائی پی جی کے جنگجوؤں کو متنبہ کیا کہ وہ اس ملیشیا سے الگ ہو جائیں ورنہ انقرہ انہیں ‘داعش کے خلاف ایکشن میں رکاوٹ‘ بننے نہیں دے گی۔ التون کی طرف سے ایک ٹوئیٹر پیغام میں کہا گیا، ”ترک ملٹری، فری سیریئن آرمی کے ساتھ مل کر ترک شام سرحد کچھ دیر میں عبور کرے گی۔‘‘

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں چھپنے والے اپنے کالم میں التون نے لکھا ہے کہ ترکی شام کے شمال مشرقی حصے میں کارروائی سے ترک شہریوں کو ایک طویل عرصے سے لاحق خطرے سے پاک کرنا چاہتا ہے اور مقامی آبادی کو مسلح بدمعاشوں سے آزادی دلانا چاہتا ہے اور اس کےعلاوہ اس کا کوئی اور مقصد نہیں ہے۔ خیال رہے کہ ترکی وائی پی جی کو کالعدم کُرد تنظیم کردستان ورکرز پارٹی کا ہی ایک حصہ قرار دیتا ہے۔قبل ازیں ترکی یہ کہہ چکا ہے کہ وہ شام کی ترکی کے ساتھ لگنے والی سرحد کے قریب ایک سیف زون یا محفوظ علاقہ قائم کرنا چاہتا ہے تاکہ وہاں ترکی میں پناہ لیے ہوئے شامی مہاجرین کو بسایا جا سکے۔ تاہم اقوام متحدہ اور یورپی یونین کی طرف سے ترکی کو کسی فوجی کارروائی سے خبردار کیا گیا ہے۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے