ایران کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ شام میں غاصبانہ قبضہ ختم اور اس ملک سے اپنی فوج نکالنے کا امریکی فیصلہ بہت پہلے سامنے آجانا چاہئے تھا –ایران کی وزارت خارجہ نے اپنے ایک  بیان  میں شام میں امریکا کی فوجی موجودگی کو غیر قانونی اور شام میں ترک فوج کے داخل ہونے کے امکان کو تشویشناک قراردیا ہے –

ایران کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ شام میں ترک فوج کے داخل ہونے سے بڑے پیمانے پر جانی اورمالی نقصان ہوگا اور اسی بنیاد پر ایران ہر طرح کی ممکنہ فوجی کارروائی کا مخالف ہے ۔وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ موجودہ تشویش کو پرامن طریقے سے ختم کرنے کے لئے ایران کی حکومت ترکی اور شام کے حکام سے فوری طور پر رابطہ برقرار کرنے کو تیار ہے اور ایران اس بات پر زور دیتا ہے کہ شام کی ارضی سالمیت اور اقتدار اعلی کا احترام اور آدانا معاہدہ ہی بات چیت کے لئے مناسب بنیاد ہے ۔

آدانا معاہدے کے مطابق  24 اکتوبر 1998ء  کو ایران اور مصر کی نگرانی میں ترکی اور شام کے مابین ہوا تھا دونوں ملکوں نے اس بات کا عہد کیا تھا کہ وہ دہشت گرد گروہوں کو ایک دوسرے کے ملکوں میں داخل نہیں ہونے دیں گے اور انہیں روکیں گے -اس معاہدے کی بنیاد پر ترک حکومت کو اس بات کی اجازت دی گئی کہ وہ دہشت گرد گروہوں کا قلع قمع کرنے کے لئے شام کی سرحد کے اندر صرف پانچ کلومیٹر اندر تک اپنی فوج بھیج سکتا ہے اور ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی کو لاحق خطرات کی صورت میں ضروری تدابیر بھی اپنا سکتا ہے ۔ ایران اور ترکی کے وزرائے خارجہ نے بھی پیر کی رات اپنی ٹیلی فونک گفتگو میں شام کے شمال مشرقی علاقوں کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا تھا

ایران کے وزیرخارجہ ڈاکٹرمحمد جواد ظریف نے اس ٹیلی فونی گفتگو میں فوجی اقدام کی مخالفت اور شام کی ارضی سالمیت اور اقتدار اعلی کا احترام کئے جانے پر زور دیتے ہوئے شام اور ترکی کے درمیان پائے جانے والے اختلافات اور تشویش کو ختم کرنے کے لئے آدانا معاہدے کو بہترین راہ حل قرار دیا -ترک وزیرخارجہ مولود چاؤش اوغلو نے بھی شام کی ارضی سالمیت کا احترام کرنے پر تاکید کرتے ہوئےکہا کہ شام کے اندر ترکی کی کارروائی عارضی ہو گی ۔

بعض ذرائع ابلاغ نے رپورٹ دی ہے کہ پیر اورمنگل کی درمیانی رات ترکی کی فوج نے شام کے شمالی علاقے تل الطویل پر حملہ کر دیا ہے ترکی کی فوج نے یہ حملہ ایسی حالت میں کیا ہے کہ اسکے ممکنہ خطرناک نتائج کی بابت بین الاقوامی سطح پر انتباہ دیا گیا تھا۔

شامی ٹی وی چینل کے مطابق، ترکی کی فوج نے مسلح گروہوں کی سرکوبی کے بہانے پیر کی رات صوبے حسکہ کے تل الطویل علاقے پر کئی طرف سے حملہ کیا ۔اسی طرح ترکی کی فضائیہ نے بھی صوبے حسکہ کے کئی علاقوں پر حملے کئے ہیں ۔اس سے پہلے روس اور یورپی یونین نے شام کے شمال مشرقی علاقے پر حملہ کرنے کے ترکی کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے شام کی ارضی سالمیت کا ہر حال میں احترام کئے جانے پر تاکید کی تھی۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے