مقبوضہ کشمیر : 65  روزہ کرفیو سے کشمیری معیشت کو 1 ارب ڈالر کا نقصان

 

مقبوضہ کشمیر میں بحارتی وحشت اور بربریت کے نتیجے میں جاری سکیورٹی لاک ڈاؤن کو دو ماہ سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے اور اس کی وجہ سے جہاں 80 لاکھ کشمیری اپنے ہی وطن میں قیدی بنے ہوئے اوران کی زندگی شدید مشکلات کا شکار ہے وہیں کاروباری سرگرمیاں بھی جمود کا شکار ہیں۔ماہرین کے مطابق اس لاک ڈاؤن کی وجہ سے دو مہینوں میں اقتصادی طور پر ایک ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہو چکا ہے۔

علاقے کو ہنر مند مزدوروں کی کمی کا بھی سامنا ہے کیونکہ جب سے لاک ڈاؤن شروع ہوا ہے یہاں سے چار لاکھ افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔ گلیاں ویران ہیں اور وہ سیاحتی کاروبار بند ہیں جن سے تقریباً سات لاکھ لوگوں کا روزگار وابستہ تھا۔کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تخمینے کے مطابق شٹ ڈاؤن کی وجہ سے ابھی تک علاقے میں کاروبار کی مد میں 1.4 ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے اور ہزاروں نوکریاں ختم ہو چکی ہیں۔

’مقبوضہ وادی میں تین ہزار ہوٹل ہیں اور سبھی خالی پڑے ہیں۔ انھوں نے قرضے چکانے ہیں اور روزانہ کے اخراجات پورے کرنے ہیں۔لیکن نہ سیاح ہیں نہ ہوٹل میں آنے والا کوئی مقامی باشندہ ہے۔۔ اکثر عملہ ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی اور خوف کی وجہ سے نہیں آ تا علاقے میں کشیدگی عروج پر ہے اور شہر میں کئی احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ بھارتی حکومت کی جانب سے اس اعلان کے بعد کہ جمعرات سے سیاحوں کو آنے کی اجازت دے دی جائے گی شاید آنے والے دنوں میں حالات بہتر ہو جائیں۔ اس لاک ڈاؤن سے صرف ہوٹل کی صنعت کو ہی نقصان نہیں پہنچا۔ بلکہ ’انٹرنیٹ نہ ہونے کی وجہ سے پانچ ہزار ٹریول ایجنٹ بھی بیکار ہو چکے ہیں۔

بھارتی حکومت کا آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد دعویٰ تھا کہ نوجوانوں کو روزگار دیا جائے گا، کشمیر کے حالات بہتر ہوں گے تعمیر و ترقی کے کام ہوں گے لیکن اس کے برعکس بے روزگاری شدید ہوچکی ہے، معاشی سرگرمیاں بالکل مفلوج ہیں اور بنیادی سہولیات کی حالت پہلے سے بدتر ہوچکی ہے۔

اسی طرح سری نگر کے مشہور ڈل جھیل میں تقریباً ایک ہزارے شکارے بھی خالی پڑے ہیں۔کشمیر ہاؤس بوٹس ایسوسی ایشن کے حامد وانگنو کہتے ہیں کہ ’ہر شکارے کی دیکھ بھال کے لیے ہر سال تقریباً سات ہزار ڈالر چاہییں اور بہت سے لوگوں کے لیے یہ واحد ذریعہ معاش ہے

چیمبر آف انڈسٹری کے صدر شیخ عاشق کہتے ہیں کہ ’صرف قالینوں کی صنعت میں پچاس ہزار سے زیادہ نوکریاں ختم ہو چکی ہیں۔‘ان کا کہنا تھا کہ عام طور پر جولائی سے ستمبر تک قالین بنانے والے آرڈر لیتے ہیں، خصوصاً بیرون ممالک سے، تاکہ وہ کرسمس تک قالین بنا کر آرڈر مکمل کر سکیں۔ان کے مطابق مواصلاتی رابطے منقطع ہونے کی وجہ سے وہ درآمد کرنے والوں سے دور کی بات اپنے ہی ملازمین سے رابطے نہیں کر سکے ہیں۔

کشمیر کے مشہور سیبوں کے باغات بھی لاک ڈاؤن کا شکار ہیں۔ جنوبی کشمیر کے مشہور سیب ابھی تک درختوں پر لٹک رہے ہیں اور ان کو درختوں سے توڑنے والے موجود نہیں۔ دکانیں اور کولڈ سٹور بند ہیں اور مرکزی منڈی خالی پڑی ہے۔ مقامی کسان کے مطابق گذشتہ سال اس نے 197 ملین ڈالر کا کاروبار کیا تھا۔ایک مقامی کسان نے اپنا نام ظاہر کیے بغیر کہا: ’درختوں پر لٹکتے سیب دیکھ کر مجھے اتنی تکلیف ہوتی ہے کہ میں نے اپنے باغ میں جانا چھوڑ دیا ہے۔سیب کشمیر کی معیشت کا 12 سے 15 فیصد حصہ ہیں لیکن اس سال آدھی سے زیادہ پیداوار درختوں سے اتاری ہی نہیں گئی۔‘اگر یہ صورتحال مزید جاری رہی تو اس کے بہت سنگین نتائج ہوں گے۔

Share This Article

تازه ترین