پاکستان خصوصاً سندھ کی سرزمین پر ہزاروں اولیائے کرام اور بزرگان دین کے مزارات ہیں جبکہ اسی پاک سرزمین پرامام زادوں اور اہل بیت کے خانوادوں کے مدفن بھی ہیں جن میں کراچی میں عبداللہ شاہ غازی اور لاہور میں بی بی پاکدامن کے مزارات قابل ذکر ہیں۔

معروف ذاکروعالم دین مولانا حسن ظفر نقوی کی ایک تحقیق کے مطابق سندھ میں ساتویں امام موسی کاظم علیہ السلام کی ایک صاحبزادی جناب خدیجہ عرف ماہم بی بی سلام اللہ علیہا کا جائے مدفن بھی ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ تمام قرائن، واقعات اور شواہد یہ بتاتے ہیں کہ یہ روضہ جناب خدیجہ بنت امام موسی کاظم علیہ السلام کا ہی ہے۔ جو 1250 برس قبل سندھ کی سرزمین پر بحکمِ امام آئی تھیں۔

شجرہ جناب بی بی خدیجہ المعروف ماہم بی بی بنت امام موسیٰ کاظم

مولانا حسن ظفر نقوی کا کہنا ہے کہ تاریخ بتاتی ہے کہ ساتویں امام کے 19 بیٹے اور 18 بیٹیاں تھیں، تاہم اس وقت کے جابر و ظالم حکمران کی وجہ سے امام نے اپنی اولادوں کو مختلف مقامات کی جانب ہجرت کرنے کی ہدایت فرمائی کہ ایک تووہ جابر حکمران سے بھی محفوظ ہوسکیں گے اور دوسرے یہ کہ دور دراز کے علاقوں تک تبلیغ دین اور اہلِ بیت کی تعلیمات پہنچائی جاسکیں گی۔ اس بنا پرغالب امکان یہ قرار دیا جارہا ہے کہ بی بی خدیجہ اپنی کنیزوں اور دیگر ہمرائیوں کے سندھ کی اس سرزمین پر پہنچیں اور یہیں آباد ہوئیں، چونکہ ان کی آمد مدینے سے ہوئی تھی اس لیئے مقامی افراد انھیں مدینے والی بیبیاں کہتے تھے۔ اور ان کے لقب بی بی ماہم کے نام سے ہی مرقد پر تختی نصب ہے ان کا وصال مرقد پر نصب ایک قدیم کتبے کی فارسی تحریر کے مطابق 170 ہجری کو ہوا یہ وہی ماہ و سال ہیں جو ساتویں اور آٹھویں امام کا دور تھا۔

حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی مختصر زندگی مبارک

اسم گرامی : موسیٰ علیہ السلام لقب : کاظم، کنیت : ابو الحسن،والد کانام :امام جعفر صادق علیہ السلام، والدہ کا نام : حمیده اندلسی ، اسپین کی رھنے والی تھیں

تاریخ ولادت : 7 صفرالمظفر 128 ہجری،جائے ولادت : مدینہ منورہ،مدت امامت : 35 برس، عمر مبارک : 55 برس،تاریخ شھادت : 25 رجب،شھادت کی وجہ : ھارون رشید نے آپ کو زہر دے کر شھید کردیا،روضہ اقدس : کاظمین ،عراق

اولاد کی تعداد : 19/ بیٹے اور 18 /بیٹیاں

امامزادوں کے نام : (۱) علی (۲) ابراھیم (۳) عباس(۴) قاسم (۵) اسماعیل (۶) جعفر (۷) ھارون (۸) حسن (۹) احمد (۱۰) محمد (۱۱) حمزہ (۱۲) عبد اللہ (۱۳) اسحاق(۱۴) عبید اللہ (۱۵) زید (۱۶) حسن (۱۷) فضل (۱۸) حسین (۱۹) سلیمان

امامزادیوں کے نام : (۱) فاطمہ کبریٰ (۲) لبابہ (۳) فاطمہ صغریٰ (۴) رقیہ (۵) حکیمہ (۶) ام ابیھا (۷) رقیہ صغریٰ (۸) ام جعفر (۹) لبابہ (۱۰) زینب (۱۱) خدیجہ (۱۲) علیا (۱۳)آمنہ (۱۴) حسنہ (۱۵) بریہہ (۱۶) عائشہ (۱۷) ام سلمہ (۱۸) میمونہ

حضرت امام کاظم علیہ السلام کی امامت کے زمانے میں متعدد غاصب خلفاء نے خلافت کی:

منصود دوانیقی: 136 ہجری سے 158 ہجری تک، محمد معروف بہ مہدی: 158 ہجری سے 159 ہجری تک، ہادی: 159 ہجری سے 170 ہجری تک

محل وقوع:

مرقد جناب بی بی خدیجہ سلام اللہ علیہا کراچی سے 200 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع سندھ کے ضلع ٹنڈوالہٰ یار کی تحصیل چمبڑ سے تقریبا 13 کلومیٹر کے فاصلے پر آگاماٹو گوٹھ یا اگھم گوٹھ میں واقع ہے ملک کے دیگر حصوں سے آنے والوں کیلئے بہتر ہے کہ وہ بذریعہ سڑک اگر آرہے ہیں تو سکھر سے نوابشاہ اور پھر ٹندو الہٰ یار پہنچیں تاہم ملک کے کسی بھی حصے سے آنے والوں کیلئے بہتر ہے کہ وہ ٹنڈو الہٰ یار کی تصیل چمبڑ کو ہی اپنا مرکز سمجھتے ہوئے وہاں سے کچھ ہی فاصلے پر واقع آگاماٹو گوٹھ جسے اگھم یا اگّم گوٹھ بھی کہا جاتا ہےوہاں تک پہنچیں اس مقام پر واقعہ بہت سی قبروں کے درمیان ہی جناب خدیجہ کی مرقد ہے جسے  ماہم بی بی کا مزار سے شہرت حاصل ہے کیونکہ ماہم بی بی جناب خدیجہ بنت امام موسی کاظم کا لقب ہے، مقامی افراد انھیں مدینے والی بیبیاں بھی کہتے ہیں۔

وحشتناک و عبرت آمیز قبریں:

مرقد جناب بی بی خدیجہ سسے کچھ ہی فاصلے پر ایک قبرستان ہے جس میں کچھ قبروں پر مزارات بنے ہوئے ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ان لوگوں کی قبور ہیں جنھوں نے بی بی ماہم کے تحفظ اور تبلیغ دین و تعلیمات اہلِ بیت علیہم السلام کو قرب و جوار میں پھیلانے میں مدد کی جبکہ اسی مقام پر کچھ قبریں ایسی ہیں جن کی زمینیں سیاہ اوران قبروں سے مُردوں کی ہڈیاں باہر نکلی رہتی ہیں، بتایا جاتا ہے کہ یہ ان افراد کی قبور ہیں جو بی بی ماہم کو شہید کرنے کی غرض سے اس وقت کے حکمران نے بھیجے تھے جبکہ مختلف ادوار مین اس مقام پر لشکر کشی ہوتی رہی ہے جس کے آثار بھی پائے جاتے ہیں لیکن دشمن حملہ آوروں کی یہ قبریں عبرت کا نشان آج تک بنی ہوئی ہیں۔

اس مقام کو آباد کریں:

مولانا حسن ظفر نقوی نے اپنی ضعیفی کے باوجود اس جگہ کی نہ صرف کھوج کی بلکہ تمام روایات اور قرائن کے تحت یہ بتایا ہے کہ امام زادی کا مرقد ممکنہ طور پر اسی مقام پر ہے لیکن یہ جگہ سندھ حکومت کی لاپرواہی اور مقامی افراد کی غربت و افلاس کے باعث نہ ہی تقری کرسکی اور نہ ہی یہاں سہولیات دستیاب ہیں ایسے میں اگر لوگوں نے یہاں آنا شروع کیا تو یقین ہے کہ اس جگہ کی تعمیر و ترقی ممکن ہوسکے گی مولانا حسن ظفر نقوی کے مطابق تقریباً 1270 برس پرانی ان قبروں کو محکمہ آثار قدیمہ اور محکمہ اوقاف کی توجہ کی بھی ضرورت ہے کہ وہ یہاں آئیں اور نہ صرف مزار کے انتظام کو بہتر سہولیات کے ساتھ سنبھالیں بلکہ اس قدیمی جگہ کو سیاحت اور لوگوں کی دلچسپی کا مرکز بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے