سری لنکا نے پاکستان کو تیسرے میچ میں 13 رن سے شکست  دے دی۔

نو آموز سری لنکن ٹیم نے ٹی ٹوئنٹی کی نمبر ون ٹیم گرین شرٹس کے خلاف 0-3 سے فتح حاصل کرلی، کم تجربہ کار کھلاڑیوں کے سامنے قومی ٹیم کی بیٹنگ لائن ایک بار پھر مکمل طور پر فیل ہوگئی،سیریز میں پے در پے ناکامیوں کے باعث پست حوصلہ بلے بازوں کے  ہاتھ پاؤں پھول گئے اور 148 رنز کے جواب میں  قومی ٹیم مقررہ اوورز میں 6 وکٹوں پر 134 رنزہی بنا سکی۔

پاکستان کی جانب سے اننگز کا آغاز فخر زمان اور بابر اعظم نے کیا تاہم فخر زمان پہلی ہی گیند پر بولڈ ہوگئے۔

پاکستان کی دوسری وکٹ 76 کے مجموعی اسکور پر گری جب بابر اعظم 27 رنز بناکر پویلین لوٹ گئے۔ اس کے بعد حارث سہیل اور کپتان سرفراز  بھی اسکور میں خاطر خواہ اضافہ نہ کرسکے اور بالترتیب 52 اور 17 رنز بناکر آؤٹ ہوگئے۔

عماد وسیم تین اور آصف علی ایک رن بناکر آؤٹ ہوئے جبکہ افتخار احمد 17 اور وہاب ریاض 12 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔

قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے سیریز کے آخری میچ میں سری لنکن کپتان نے ٹاس جیتا اور پہلے بیٹنگ کو ترجیح دی۔

لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں سری لنکا نے ٹاس جیت کر پاکستان کیخلاف پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔

سری لنکا کے ابتدائی بلے باز کوئی خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکے اور 58 کے مجموعی اسکور پر 4 کھلاڑی پویلین لوٹ گئے تاہم پانچویں وکٹ کی شراکت میں فرنینڈو اور شناکا نے ذمہ دارانہ اننگز کھیلیں۔

فرنینڈو ایک اینڈ پر ڈٹ کر کھڑے رہے اور وکٹ کے چاروں جانب کھل کر اسٹروکس کھیل کر تیزی سے رنز میں اضافہ کرتے رہے، وہ 48 گیندوں پر 78 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے ان کی اننگز میں 8 دلکش چوکے اور 3 شاندار چھکے شامل تھے۔

سری لنکا کی جانب سے گناتھیلکا 8، سمارا اوکراما 12، راجا پکسیا 3، پریرا 13، شناکا 12، مدوشانکا 1 اور ڈی سلوا 6 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

گرین شرٹس کے سب سے کامیاب بولر محمد رہے جنہوں نے 4 اوورز کے کوٹے میں 27 رنز کے عوض 3 وکٹیں حاصل کیں جب کہ عماد وسیم اور وہاب ریاض نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

ٹاس کے موقع پر سری لنکن کپتان کا کہنا تھا کہ پوری سیریز میں ہماری ٹیم بہت اچھا کھیلی جس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے جب کہ قومی کپتان سرفراز احمد کا کہنا تھا کہ آج کا میچ جیتنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔

قومی ٹیم میں تین تبدیلیاں کی گئی، ناقص کارکردگی پر عمر اکمل، احمد شہزاد اور محمد حسنین کو ڈراپ کر کے حارث سہیل، افتخار احمد اور عثمان شنواری کو فائنل الیون کا حصہ بنایا گیا تھا۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے