ترکی کی فوج نے شمالی شام میں اپنی کارروائی کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردغان نے اِس اقدام کا اعلان کیا ہے۔

حملے کی وجہ سے امریکی حمایت یافتہ کرد پیش مرگہ فورسز کے ساتھ اُن کی براہ راست جھڑپیں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ترکی کے رہنما چاہتے ہیں کہ شام کی سرحد کے اندر 32 کلومیٹر وسیع ایک ‘محفوظ علاقہ’ تشکیل دیا جائے جہاں کرد جنگجوؤں کا کوئی وجود نہ ہو اور ترکی میں موجود 35 لاکھ شامی پناہ گزینوں میں سے 20 لاکھ کو اس محفوظ علاقے میں منتقل کیا جائے۔

کردوں کی سربراہی میں قائم اس اتحاد کا کہنا ہے کہ وہ اس علاقے کا دفاع کریں گے اور امریکہ اس علاقے کو میدانِ جنگ میں تبدیل کرنے جا رہا ہے جس سے داعش کے دوبارہ سر اٹھانے کا خطرہ بھی بڑھ جائے گا۔

ترکی نے اپنی سرحدوں سے شامی کرد ملیشیا یا جسے پیپلز پروٹیکشن یونٹس (وائی پی جے) بھی کہا جاتا ہے، کے جنگجوؤں کو پیچھے دھکینلے کی ٹھان رکھی ہے۔

ترکی کی قیادت وائی پی جے کو کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کا ایک حصہ تصور کرتے ہیں جو ترکی میں گزشتہ تین دہائیوں سے کردستان کی خودمختاری کے لیے مسلح جدوجہد کر رہی ہے۔

کرد اور عرب ملیشیاؤں پر مشتمل شامی ڈیموکریٹک فورسز(ایس ڈی ایف) کے نام سے قائم اتحاد میں وائی پی جے کو بالادستی حاصل ہے۔ ایس ڈی ایف نے گزشتہ چار برس میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی فضائی مدد سے ایک چوتھائی شام کو داعش سے چھڑا لیا تھا۔

ترک فوج کی بکتر بند گاڑیںتصویر کے کاپی رائٹEPA

ترکی وائی پی جی کی امریکی پشت پناہی کی مذمت کرتا رہا ہے اور سرحد عبور کر کے کرد فورسز کے خلاف دو مرتبہ کارروائی بھی کر چکا ہے۔

سنہ 2018 میں ترکی نے مغربی شام میں کردوں کے زیر قبضہ علاقے آفرین میں فوجی کارروائی کی تھی جس میں درجنوں شہری ہلاک اور ہزاروں کی تعداد میں بےگھر ہو گئے تھے۔

اس سال دسمبر میں داعش شکست کے قریب تھا جب صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کو شام سے اپنی افواج نکالنا شروع کر دینا چاہیں۔

اتحادیوں اور امریکی کمانڈروں کی طرف سے جب کردوں کے بارے میں خدشات ظاہر کیے گئِے تو صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر ترکی نے حملہ کیا یا شامی سرحد پر 20 میل طویل محفوظ علاقے قائم کرنے کی بات کی تو ترکی کو اقتصادی طور پر برباد کر دیا جائے گا۔

بعد ازاں صدر ٹرمپ نے انخلا موخر کر دیا لیکن ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان نے محفوظ علاقہ قائم کرنے کی بات جاری رکھی۔

اس سال اگست میں ترکی اور امریکہ دونوں مشترکہ طور پر ایسا علاقہ قائم کرنے پر تیار ہو گئے۔

کرد حکام نے بھی حمایت کرنے کا اظہار کیا اور وائی پی جے نے سرحد کے ساتھ مورچوں اور دفاعی ڈھانچوں کو مسمار کر دیا۔

لیکن دو ماہ بعد صدر ٹرمپ نے فیصلہ کیا کہ ترکی کی افواج یہ محفوظ علاقہ تنہا ہی قائم کریں۔

صدر اردوگان کو مکمل اعتماد ہے کہ 480 کلومیٹر طویل ایک راہداری ترکی کی سرحدوں کے دفاع کو یقینی بنانے کے علاوہ دس سے بیس لاکھ شامی مہاجرین کو بھی یہاں بسایا جا سکے گا۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے