ثالثی کردار: وزیراعظم عمران خان ایران و سعودی عرب کا دورہ کریں گے، دفتر خارجہ

 

ترجمان دفتر کارجہ محمد فیصل نے تصدیق کی ہے کہ وزیراعظم عمران خان جلد ہی سعودی عرب اور ایران کا دورہ کریں گے اور اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی ختم کرتے ہوئے خطے میں قیام امن کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہے، تاہم دورے کی حتمی تاریخ اور پلان ابھی واضح نہیں ہے امکان ہے کہ 29 اکتوبر کوسعودی سرمایہ کاری کانفرنس کے بعد وزیراعظم ایران کا دورہ کریں گے۔

اس سے قبل ایک امریکی اخبار نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے پاکستانی وزیراعظم سے کہا ہے کہ وہ ایران سے معاملات طے کرانے میں ثالثی کا کردار ادا کریں، اان خبروں کے بعد ایران کی جانب سے  امن کی کوششوں کی تائید کی گئی ہے جس کے بعد امید بندھ چلی ہے کہ ایران سعودی تنازع ختم ہوسکے گا اور خطے پر چھائے تباہ کن جنگ کے بادل چھٹ جائیں گے۔

علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان 29 اکتوبر کو سعودی عرب جائیں گے، جہاں وہ فیوچرسرمایہ کاری انیشی ایٹو میں شریک ہوں گے ، کانفرنس میں شرکت کی دعوت سعودی فرمانروا نے دی ہے۔سرمایہ کاری سمٹ 29 سے 31 اکتوبر تک ریاض میں منعقد ہوگی، بھارت کے وزیراعظم کو بھی سمٹ میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔

یاد رہے ستمبر میں وزیراعظم عمران خان نے سعودی عرب کا دورہ کیا تھا ، جہاں وزیر اعظم پاکستان نے سعودی فرماں روا اور سعودی ولی عہد سے ملاقاتیں کیں تھیں ، جس میں دو طرفہ تعاون کو مزید بڑھانے پر بات چیت کے ساتھ باہمی دل چسپی کے امور، تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعلقات پر گفتگو کی گئی۔وزیر اعظم عمران خان نے سعودی تیل کی رسدگاہوں پر حملے کی مذمت کی اور سلامتی کو خطرے پر سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا عزم دہرایا۔وزیر اعظم نے شاہ سلمان کو مقبوضہ کشمیر کی تازہ لیکن تشویش ناک صورت حال سے بھی آگاہ کیا، جس پر شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے مسئلہ کشمیر پر دیرینہ حمایت اور یک جہتی کا اظہار کیا تھا۔

 

Share This Article

تازه ترین