لاہور کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے کہا ہے کہ 25 جولائی کے عام انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد مولانا فضل الرحمان کے کہنے پر اسمبلیوں سے احتجاجاً استعفے نہ دینا ہماری سب سے بڑی غلطی تھی، جس کا خمیازہ اب بھگت رہے ہیں۔
نواز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت کے خلاف احتجاجی مارچ میں مسلم لیگ ن پوری قوت کے ساتھ مولانا فضل الرحمان کا ساتھ دیں گے اس حوالے سے تفصیلی خط شہباز شریف کو بھیج دیا ہے، بعد ازاں نواز شریف کے داماد کیپٹن صفدر کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے اپنے آئندہ کا لائحہ عمل لکھ کر حسین نواز کو بھیج دیا ہے وہ احتجاجی دھرنے میں مسلم لیگ ن کی شرکت کی نگرانی کریں گے، کیپٹن صفدر میڈیا سے گفتگو میں شہباز شریف سے سخت نالاں نظر آئے، جس کاا برملا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ شہباز شریف ٹائم بم کی طرح ہیں۔
بعد ازاں احتساب عدالت میں چوہدری شوگرملزکیس کی سماعت کے دوران سابق وزیراعظم نواز شریف کو 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا گیا جبکہ انھیں 25 اکتوبرکودوبارہ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ احتساب عدالت کےجج امیر محمد خان نے کیس کی سماعت کی ، نیب کی جانب سے نواز شریف کو گرفتاری کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا اور 15روزہ جسمانی ریمانڈکی استدعا کی گئی تھی۔
نیب پراسیکیوٹر نے کہا نواز شریف وزیراعظم تھےجب چوہدری شوگرملزقائم ہوئی، میاں نواز شریف نےعوامی عہدے کا ناجائزاستعمال کیا ،آف شور کمپنی سےرقوم چوہدری شوگرملزکےاکاؤنٹ میں منتقل ہوئی ، نواز شریف منی لانڈرنگ میں ملوث رہے،تفتیش باقی ہے۔ نیب پراسیکیوٹر نے مزید بتایا کہ دو ہزارملین سےچوہدری شوگرملز،شمیم شوگرملزمیں سرمایہ کاری کی گئی، نواز شریف 92 میں وزیراعظم تھے، ایک کروڑ 55 لاکھ 20 ہزار ڈالر باہر سے آئے، بیرون ممالک سے رقوم پرکوئی معلومات نہیں دی جا رہی۔
اس موقع پرنوازشریف کے وکیل نے کہا کہ پانامالیکس کیس میں چوہدری شوگرملزمعاملےکی تفتیش کی گئی، چوہدری شوگر ملز کیس میں گرفتاری غیر قانونی ہے ، جےآئی ٹی کو نوازشریف کے اثاثوں کی چھان بین کامینڈیٹ تھا، پانامہ جے آئی ٹی کودستاویزات تک رسائی تھی، شیئرزکی منتقلی کی تمام باتیں بے بنیاد ہیں۔
وکیل کا مزید کہنا تھا کہ جس معاملےپرنیب جسمانی ریمانڈ مانگ رہاہےاس پر پہلے ہی تحقیقات ہو چکی، چوہدری شوگرملزکی دستاویزات پہلےہی نیب کے پاس ہیں ، نوازشریف چوہدری شوگرملز کے ڈائریکٹر اور شیئرہولڈرنہیں رہے، ان کے بچے ملزکے ڈائریکٹر اور شیئرہولڈر ہیں، نوازشریف کے اثاثوں کی چھان بین پہلی بارنہیں ہو رہی۔
نواز شریف کے وکیل نے بتایا کمپنیوں کے متعلق تحقیقات مخالف حکومتوں نےکی مگرکچھ نہ ملا، سپریم کورٹ نے3ریفرنس کا کہا جس میں چوہدری شوگر ملز شامل نہیں۔نوازشریف کی احتساب عدالت میں پیشی پر کمرہ عدالت میں شدید حبس اور گرمی سے وکیل بے ہوش ہوگیا ، جسے فوری طور پر طبی امداد دی گئی۔
وکیل امجد پرویز نے کہا 2016 سے ریکارڈ کےمطابق نواز شریف شیئرزہولڈرنہیں، اس کیس سےنواز شریف کو بری کیا جائے ، نیب نے تحقیقات کرنا ہوتیں توجیل میں کر سکتی تھی، ایک گھنٹہ تحویل بھی غیرقانونی نہیں دی جانی چاہئے۔نواز شریف کے وکیل کا کہنا تھا نیب کے بلانے پر بچوں سمیت پیش ہوتے رہے ، نیب کو تمام جوابات تحریری طور پر دئیے ہیں، نیب حکام صرف ایک بار میرے پاس آئے، نیب والوں سے کہا میرے وکیل کی موجودگی میں بات کریں۔
نوازشریف نے عدالت میں بیان میں کہا ایک دمڑی کی کرپشن نہیں کی، ان کے پاس میرے خلاف کوئی ثبوت نہیں، مجھے کالا پانی یا گوانتا ناموبے لے جانا چاہتے ہیں تو لے جائیں، یہ سمجھتےہیں مسلم لیگ ن کو دیوار سے لگا دینگے تویہ انکی بھول ہے۔نواز شریف کا کہنا تھا کہ ہم ڈٹے ہوئے اور کھڑے ہیں، جم کر مقابلہ کریں گے، میں توپہلے ہی قید کاٹ رہا ہوں، اس کیس میں نہ سہی کسی اور میں گرفتاری ڈال دیں، فرق نہیں پڑتا۔بعد ازاں احتساب عدالت نے نوازشریف کو 14روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کرتے ہوئے 25 اکتوبر کو پیش کرنے کی ہدایت کردی۔احتساب عدالت میں پیشی کے بعد نواز شریف کو نیب ہیڈ کوارٹر منتقل کردیا گیا جہاں انھیں قائم ڈے کیئر سینٹرمیں رکھا جائے گا، اس سے قبل مریم نواز نے بھی اسی مقدمے میں ڈے کیئر سینٹر میں 55 دن گزارے ہیں۔