جب وزیراعظم عمران خان نےاپنےایک ٹوئٹرپیغام میں انتہائی حیرت کا مطاہرہ کرتے ہوئے یہ کہا کہ مجھے تعجب ہےاُس عالمی میڈیا پرجسے ہانگ کانگ کےاحتجاجی مظاہرے تونظرآجاتےہیں اوراسے شہ سرخیوں میں جگہ بھی دی جاتی ہے لیکن مقبوضہ کشمیر میں 9 لاکھ بھارتی افواج کےمظالم اوران کی جانب سےیرغمال بنائے گئے 80 لاکھ بے گناہ کشمیری نظرنہیں آتے..!!
وزیراعظم نے بہترین بات کہیں ، ایک کڑوا سچ کہہ دیا، دل کو لگتی بات بھی ہے واقعی عالمی میڈیا کی بے حسی کی اس سے بڑی کیا مثال دی جاسکتی ہے، لیکن اگر ہم اسی بات کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے یہ کہنے کی بھی جسارت حاصل کریں کہ عالمی میڈیا ہو یا پاکستانی میڈیا اسے عراق میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئےہونے والے کچھ مظاہرےتونظرآجاتے ہیں اورانھیں ہربلیٹن کی زینت بنایا جاتا ہے لیکن عاشور اور اربعین پر کربلا میں کروڑوں زائرین کا اجتماع کیوں نظر نہیں آتا۔ کیا یہ بے حسی ہے، تعصب ہے یا خوف ہے کہ اتنا بڑا اجتماع دکھا دیا تو واقعہ کربلا اور زیارت امام حسین کے مخالف کئی لوگوں کے جھوٹ کا پردہ فاش ہوجائے گا ان کی دکانیں بند ہوجائیں گی۔۔۔؟؟

چند ہزار افراد کا کہیں اجتماع ہو، احتجاج ہو یا آج کل کے حالات کے تناظر میں ایک مولانا صاحب کے آزادی مارچ کی بات ہو سارا میڈیا اس پر لگا ہوا ہے لیکن میڈیا اور اس کےکرتا دھرتا افراد اُس وقت بالکل اندھےاوربہرے ہوجاتےہیں جب بات آتی ہےکہ چہلم امام حسین علیہ السلام کے موقع پر "مشی” یعنی نجف سے کربلا تک کا تقریباً 100 کلومیٹر کا سفر کم از کم 2 سے ڈھائی کروڑ لوگ کررہے ہیں اور اپنی عقیدت و محبت کے اظہار میں اس طویل سفر کو دنیا کا حسین ترین اور یادگار سفر گردانتے ہوئے کربلا پہنچ کر چہلم امام حسین علیہ السلام میں شریک ہورہے ہیں۔ تو سب کے منہ پر تالا لگ جاتا ہے، کہیں اس پر بات کرلی، یہ اجتماع، اربعین واک ٹی وی پر دکھادی تو ان کی نوکری چلی نہ جائے یا ایمان خراب نہ ہوجائے۔

میڈیا کی آنکھوں پرتو اُس وقت بھی پٹی بندھ جاتی ہے جب نجف سے کربلا کےراستےمیں امیرہویا غریب،عربی ہو یا عجمی اپنے خاندان کی عورتوں اوربچوں کےساتھ سڑک کنارے کھڑا ہوکرزائرین کے سامنےالتجا کررہا ہوتا ہے کہ میرے تھال میں سے کچھ کھالو، مجھ سے اپنے پیر دبوالو، مجھ سے اپنی خدمت کروالو، اے زائر امام حسین مجھے اپنی خدمت کا کچھ تو موقع دو۔ ہر دو قدم پر کہیں کوئی سر پر تھال میں انواع اقسام کے کھانے رکھے نظر آئے گا تو کہیں کوئی اپنا خیمہ لگائے آپ کو طویل سفر کی تھکان دور کرنے کیلئے آرام کرنے کیلئے اپنی جگہ دینے پر اصرار کرتا نظر آئے گا۔پھر اس سفر میں جوان تو جوان، لاکھوں بوڑھے، بچے، خواتین اور معذور افراد بھی جوق در جوق نظر آئیں گے لیکن میڈیا کو کچھ نظر نہیں آئے گا۔

میڈیا اُ س وقت تو بالکل ہی بہرہ ہوجاتا ہے اوراسے ان معصوم بچوں کی صدائیں بھی سنائی نہیں دیتیں جب اس راستے پر کھڑے اپنی معصوم نگاہوں سےچھوٹے چھوٹے بچے بچیاں کربلا جانے والےامام کے زائر سے کہتے نظر آتے ہیں کہ ہمارے ہاتھ سےایک کھجور ہی کھالیں کہ آپ امام کے مہمان ہیں آپ کا یہ کرم ہم پرہمارے خاندان پراحسان عظیم ہوگا،بات کھانےکی توہے ہی نہیں کیونکہ یہ سفرعشق ہوتا ہےلیکن اس اربعین واک پہ جاکرتو دیکھیں اوردل میں ایک ذرا سی خواہش تو کریں کہ کاش مجھے فلاں چیز کھانےکو مل جاتی پھردیکھیں کچھ دیربعد وہی چیزآپ کےسامنےکیسے آجاتی ہے، جوکھانا چاہیں کھائیں جیسی خدمت کروانا چاہیں کروائیں،سوئیں، بیٹھیں، آرام کریں، لیکن ان تمام خدمات کا کوئی معاوضہ نہیں، کیا دنیا میں ایسا کہیں ہوتا ہے اوراگر ہوتا ہے تو ہمیں بھی بتائیں اور نہیں ہوتا تو پھرمیڈیا اس سے آنکھیں کیوں بند کرلیتا ہے۔۔۔؟؟

وزیراعظم صاحب جیسے آپ نے تعجب اور حیرت کا اظہار کیا یہ بات ہمیں بھی سمجھ نہیں آتی کہ کربلا میں عاشور و اربعین کےموقع پر کروڑوں زائرین کے کھانے پینے، رہنے، سونے جاگنے کا انتظام کیسے اتنی خوش اسلوبی سے ہوجاتا ہےکہ کسی کوپتہ بھی نہیں چلتا لوگ آکے چلے بھی جاتے ہیں نہ شہر میں گندگی، نہ کوئی حادثہ نہ کوئی لُوٹ ماراوراس عظیم اجتماع کو اس کے انتظامات کو میڈیا پھر بھی اہمیت نہیں دیتا۔

عمران خان صاحب جس طرح آپ بین الاقوامی مبصرین اور میڈیا کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ جائیں اورمقبوضہ کشمیر کےحالات خود دیکھیں تو ہم بھی یہ دعوت عام دینے کی بہتر پوزیشن میں ہیں کہ ہر وہ شخص جسے ان اجتماعات کی روح پروری اور دنیابھر سے آئے ہوئے ذائرین کی بے پناہ تعداد، بہترین انتطامات پرذرہ برابر بھی شک ہے توخود ذرا جاکر اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرتو لے، ذرا ایک دفعہ اربعین کےموقع پر کربلا توجائیں دیکھیں کہ کیا شیعہ ، کیا سُنی، کیا ہندو کیا عیسائی سب ہی نظر آئیں گے کہ وہ اانسانیت کے عظیم رشتے سے بندھے امام حسین سے اپنی عقیدت کے اظہار کیلئے چلے آتے ہیں اورپھر خود ہی سوال کریں کہ یہ سب دنیا کو نہ دکھانا بے حسی تھی یا تعصب اور پھر انصاف کرکے دنیا کو یہ حیقیقت بتائیں کہ اب تک کیوں اندھےبہرے بنے ہوئے تھے۔۔۔؟؟
