اسے کہتے ہیں نہلے پر دھلا ۔ مسلم لیگ نواز میں اگر ہمت ہے تو دھرنے میں شرکت کا فیصلہ کر کے دکھا دے۔ کیا ٹائمنگ ہے؟ واہ واہ ۔ سر کھجائیں یا شاباش پر شاباش دیں۔ دو دن سے یہ مسئلہ کشمیر سے بڑا مسئلہ لگ رہا تھا کہ جناب شہباز شریف صاحب کب نواز شریف سے ملیں گے اور کب دھرنے میں شرکت کا فیصلہ ہو گا۔

یہ لوگ جان بوجھ کر کمرے میں سوئی پھینک دیتے ہیں اور اپنے ہی کسی بندے کو آنکھ مار کر کہہ دیتے ہیں کہ لائٹ بند کر دو۔ اب کوئی سوئی ڈھونڈھ کر دکھا دے ۔
کیا شہباز شریف کو معلوم تھا کہ جمعہ کی دن نیب نواز شریف کو پھر سے اپنے پاس لے جائیگی؟ یا پھر حکومت نے اپنا پتا پھینکا ہے کہ شہباز شریف کا مسئلہ ایسے ہی دھرا کا دھرا رہہ جائے ۔
نواز شریف پر دباو ڈالا جارہا ہے کہ وہ دھرنے میں شرکت نہ کرے؟ یا پھر مسلم لیگ نواز کو معلوم ہے کہ وہ دھرنے میں گئی تو اس پر اور زیادہ سخت حملہ ہو سکتا ہے؟ سیاست کے کھلاڑی ایک ایک چال غور سے کھیل رہے ہیں۔ ناشتے سے لے کر سونے تک ایک ایک پل بڑے مہارت سے بنا جارہا ہے۔

یہ اکتوبر کا معاملہ بھی بڑا ظالم ہے۔ ایوب خان نے اکتوبر میں ہی قبضہ کیا۔ اور بقول عمران خان کے ترقی کے سارے ریکارڈ توڑ دیے۔ مشرف صاحب کو بھی انقلاب کا خیال اکتوبر میں ہی آیا تھا۔ اور آپ کو یاد ہو کہ نہ یاد ہو کہ عمران خان کا تاریخی جلسہ بھی اکتوبر کے مہینے میں لاہور میں ہوا تھا۔ آخر ہمارے ماہر آرکیٹیکچرز کو اکتوبر کا مہینہ ہی کیوں اچھا لگتا ہے۔ کہنے کو اس وقت ہر طرف یہ ڈھول پیٹا جارہا ہے کہ حکومت اور طاقت ور حلقے ایک ہی پیج پر ہیں۔
چلیں آئیں عمران خان والے اکتوبر میں چلتے ہیں جب وہ لاہور میں جلسہ کر رہے تھے اور پیپلز پارٹی کی حکومت کے ساتھ جنرل پاشا کی واہ واہ ہو رہی تھی۔ کہتے ہیں اس وقت کے صدر اور جنرل پاشا کے درمیان بہت انڈرسٹینڈنگ تھی۔ اکثر لوگوں کی زبان سے سنا کے دونوں میں بہت بنتی تھی۔ وہ کبھی یہ تصور نہیں کر سکتے تھے کہ جنرل پاشا عمران خان کو ان کے خلاف کھڑا کرینگے کہ لاہور کا تاریخی جلسہ ہوا۔ اب یہ بات کسی فقیر سے بھی چھپی ہوئی نہیں کہ اس میں جنرل پاشا کا کیا کردار تھا ۔
کہنے کی بات یہ ہے کہ دونوں کی طرف کھیلا گیا ۔ پیپلز پارٹی کے ساتھ بھی اور عمران کے ساتھ بھی۔ اس وقت بھی لگتا یوں ہے کہ مولانا فضل الرحمان کی جیب میں کوئی کاغذ پڑا ہوا ہے۔ اتنا اعتماد کیوں ہے انھیں کوئی تو وجہ ہے ۔ بے خودی بے سسبب نہیں ہے، غالب کے خیال میں کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔ کہیں عمران خان کے ساتھ وہی کھیل تو نہیں ہورہا جو مشرف کے ساتھ اور زرداری صاحب کے ساتھ ہوا؟ مشرف دور میں وکلا کی تحریک اور زرداری، نواز کے سامنے عمران کا کنٹینر ۔ اور اب عمران کے سامنے مولانا کے سپاہی۔ پارٹی شروع ہو چکی ہے ۔ انجوائے کریں ۔
تحریر : انیس منصوری