جاپان میں بدترین طوفان، ہزاروں گھراورلاکھوں شہری متاثر

 

جاپان میں ہفتے کے روز 60 سال کے دوران آنے والے طاقتور ترین طوفان سے دارالحکومت ٹوکیو سمیت ملک بھر میں سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہےجب کہ کئی علاقوں میں سیلاب آچکا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 10 ہزار سے زائد گھر بجلی سے محروم ہوچکے ہیں جب کہ اب تک ایک شخص کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔

جاپان میٹرولوجیکل ایجنسی نے خدشہ ظاہر کیا ہےکہ طوفان کے باعث 180 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتارسے چلنےوالی ہوائیں مزید لینڈسلائیڈنگ اور سیلاب کا سبب بن سکتی ہیں۔ طوفان کے سبب رگبی ورلڈکپ کے کچھ میچ اور فارمولا ون ریس بھی منسوخ کردی گئی ہے۔ حکام نے خطرات کے پیش نظر علاقوں میں احتیاطی ہدایات جاری کردی ہیں جب کہ طوفان کے ٹکرانے سے قبل ہی شہریوں کی جانب سے روز مرہ کا سامان اسٹاک کرنے سے اسٹاک مارکیٹوں میں سامان کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔طوفان کے باعث متعدد پروازیں اور ٹرینیں منسوخ کردی گئی ہیں جب کہ دکانیں اور فیکٹریاں بھی بند ہوچکی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مشرقی ٹوکیو میں سیلابی صورتحال سے گھروں کو شدید نقصان پہنچا اور ایک گھر کار پر آگرا جس میں موجود شخص ہلاک ہوگیا۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہےکہ یہ طوفان 1958 میں جاپان میں آنے والے اس طوفان سے بھی زیادہ طاقتور ہوسکتا ہے جس کے نتیجے میں 1200 سے زائد افراد ہلاک یا لاپتا ہوئے تھے۔میٹرولوجیکل ایجنسی نے سیلابوں اور لینڈسلائیڈنگ کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئےکہا ہےکہ طوفان مزید ریکارڈ بارشیں اور طوفانی ہوائیں چل سکتی ہیں۔

اس سے قبل گذشتہ ماہ آنے والےسمندری طوفان نے 30 ہزار گھروں کو متاثر کیا تھا جس کےریسکیو اوردوبارہ تعمیرات کا کام ابھی تک مکمل نہیں کیا جاسکا لیکن تازہ طوفان اس سےبھی زیادہ خطرناک اورطاقتورہےجس سے ہونے والےنقصانات کااندازہ اس طوفان کے تھمنے کے بعد ہی صحیح طورسے لگایا جاسکے گا، جاپان جس خطے پرواقعہ ہے وہاں سال میں سب سے زیادہ زلزلےاورسمندری طوفان آتے ہیں جن سے جاپانی معیشت کو ہر سال اربوں ڈالرز کا نقصان ہوتا ہے لیکن جاپانی حکومت اور قوم کچھ ہی عرصے میں معمولاات زندگی بحال کرنے میں اپنی مثال آپ ہے۔

 

Share This Article

تازه ترین

کشمیر میں لوٹس اسٹیم کی کٹائی