شام پر ترکی کا حملہ، یورپی سلامتی کیلئے خطرہ قرار

 

شام میں فوجی کارروائی کے ردعمل میں یورپی ممالک کی طرف سے ترکی پر سخت دباﺅ ڈالنے کی پالیسی پرعمل شروع کر دیا گیا ہے، جرمنی اور ہالینڈ کے بعد فرانس نے بھی ترکی کو اسلحہ کی سپلائی معطل کردی ہے۔،فرانس کی وزارت دفاع نےکہا ہےکہ اس نےترکی کو ہر طرح کے ہتھیاروں کی فروخت معطل کرتے ہوئے انقرہ کو متنبہ کیا ہے کہ شمالی شام میں اس کے حملے سے یورپی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔

فرانسیسی دفاع اور خارجہ کی وزارتوں کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے فرانس، جس سے یہ حملہ ختم ہونے کی توقع ہے نے ترکی کو اسلحہ برآمد کرنے کے تمام منصوبوں کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہو گا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ پیر کےروز لکسمبرگ میں ہونے والے اجلاس میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں بھی اس معاملے پرغور کیا جائے گا۔

دوسری جانب شامی آبزرویٹری برائے ہیومن رائٹس کے مطابق کردوں نے شمال مشرقی شام میں کرد باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر ترک حملے نے ہزاروں شہریوں کو بے گھر کر دیا ہے۔ترکی کی جانب سے شامی کرد ملیشیا کے خلاف کارروائی چوتھے روز بھی جاری ہے اور ترک فوج نے سرحد کے قریب اہم شامی قصبے  پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔

ترک وزارت دفاع کےمطابق شام میں کرد ملیشیا کےخلاف آپریشن بہارِ امن( پیس اسپرنگ) کامیابی سے جاری ہےاوراس کی فوج نے اہم سرحدی قصبےراس العین کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ادھر کردوں کی سربراہی میں لڑنے والے سیریئن ڈیموکریٹک فورس (ایس ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ ترک افواج کی کئی گھنٹوں سے جاری رہنے والی بھاری شیلنگ کے باعث ایک حکمت عملی کے تحت وہ پیچھے ہٹے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق  گزشتہ رات ہونی والی جھڑپوں میں ایس ڈی ایف کے 20 جنگجو ہلاک ہوئے ہیں جب کہ چار روز کے دوران یہ تعداد 74 ہوگئی ہے۔اس سے قبل تک خبر رساں ادارے نے 300 سے زائد کرد جنگجوؤں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا۔ترک وزارت دفاع کی جانب سے لڑائی میں ایس ڈی ایف کے 400 سے زیادہ جنگجوؤں کی جانب سے ہتھیار ڈالنے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔

Share This Article

تازه ترین