شہبازشریف کا کمر درد ان کی طرح عقلمند۔۔۔!!

 

بچپن میں اکثر ایسا ہوتا تھا کہ جس دن اسکول کی چھٹی ہوتی تھی اس دن ہی بارش ہوجاتی تھی اور اسکول سے عام دنوں میں چھٹی کی خواہش دل میں ہی رہ جاتی تھی پھر جب اسکول سے بہانہ بنانا ہو تو کبھی پیٹ میں درد، تو کبھی کسی رشتہ دار کے انتقال کے بہانوں سے جیسے تیسے کام چلالیا جاتا تھا لیکن ٹیچرز کو سب کچھ معلوم ہوتاتھا اس لیئے کبھی وہ سمجھ کے بھی خاموش رہتے یا کبھی اس بہانے کا جواب چھڑی سے پٹائی کی صورت میں دیا جاتا۔

یہ تو بات بچپن کے بہانوں کی تھی جو اکثر بچوں کی ناسمجھی کی واجہ سے نادان ہوتے تھے، لیکن آج کے دور میں دیکھا جائے تو ایک سیاستدان ایسے ہیں جن کی عقلمندی اور معمالہ فہمی کا تو چرچا  پہلے ہی تھا لیکن اب ان کے کمر کا درد بھی انکی طرح عقلمند اور معاملہ فہم ہوچکا ہے اور وہ صرف اسی وقت بیدار ہووتا ہے جب اسے پتہ ہوتا کہ اس میٹنگ، اس معاملے میں شرکت اچھی نہیں فوراً شروع ہوجاو۔

اس بات کی تائید وفاقی وزیرسائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری بھی کرتے ہیں جنھوں نےقومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کا کمردرد انتہائی عقلمند ہے جوہمیشہ وقت کےمطابق ہوتا ہے۔ اب مولانا فضل الرحماان کے مارچ مین شکت کیلئے نواز شریف تائید کررہے ہیں تو سمجھدار شہباز شریف کے عقلمند درد نے بیدار ہوکر شرکت سے معذرت کا اچھا موقع تلاش کیا ہے۔ فواد چوہدری کاکہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کابحران اورگہراہوتا جا رہا ہے،شہبازشریف چارسال وزیراعلیٰ رہے لیکن انہیں کمر کا درد نہیں ہوا، جونہی وزارت اعلیٰ سے ہٹتے ہیں کمر درد آجاتا ہے، ان کا کمر درد بھی انتہائی عقلمند ہے جو بے وقت نہیں ہمیشہ وقت کے مطابق ہوتا ہے۔

جے یو آئی ف کے مارچ کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ جے یو آئی مارچ تو کررہی ہےمگر اسے اپنےمطالبات ہی معلوم نہیں ہیں، پتہ نہیں مولانا کیوں مارچ کر رہے ہیں، انہیں پہلے کسی سیانے کے ساتھ بیٹھ کر مطالبات بنانے چاہئیں۔ فواد چوہدری نے کہا کہ اس وقت ملک میں استحکام ہے لہذا مولانا عدم استحکام نہ پھیلائیں، مولانا اسلام آباد کے بجائے اسلام کی جستجو کریں۔انہوں نے کہا کہ بڑے عرصےسے مسلم لیگ ن میں اندرونی لڑائی چل رہی تھی اوراب ن لیگ باضابطہ دودھڑوں میں تقسیم ہو گئی ہے،کچھ لوگ کہتےتھےکہ شہبازشریف سیاست چھوڑدیں گے لیکن بھائی کونہیں چھوڑیں گے، اب وہ آزادی مارچ میں شرکت نہ کرکےبڑے بھائی کی بات مان کر سیاست ہی تو چھوڑ رہے ہیں۔

 

Share This Article

تازه ترین