دھمکیوں کے ذریعے شام پر فوجی آپریشن ختم نہیں ہوگا، ترک صدر

 

ترک صدر رجب طیب اردوان نے واضح کیا ہے کہ شام میں ترک فوجی آپریشن کو دھمکیوں کے ذریعے نہیں ختم کیا جاسکتا،کردجنجگوؤں کے خاتمےتک مشن جاری رہے گا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کےمطابق سرکاری ٹی وی کے ذریعے اپنے خطاب میں ترک صدر نے متنبہ کیا کہ جو سمجھتے ہیں اس طرح کی حکمت عملی سے آپریشن رک جائے گا تو یہ ان کی بھول ہے۔

رجب طیب اردوان کایہ بیان ایسے وقت میں آیا کہ جب فرانس اورجرمنی نے اسلحہ اورجنگی ساز وسان کی فروخت ترکی کوروک دی، ردعمل میں ترک حکام نےبھی سخت موقف اختیارکیا۔ان کا کہنا تھا کہ جرمن چانسلر انجیلا مرکل سے میرا ٹیلی فونک رابطہ ہوا، اس دوران شام میں جاری آپریشن اور حالیہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ترک صدر نے بتایا کہ جرمن چانسلر نے فریقین کے درمیان ثالثی کی بھی کی پیش کی جو مسترد کردی گئی۔

ترک فوج کا شام میں 20 میل تک سیف زون بنانے کے لیے فوجی آپریشن جاری ہے، گذشتہ دنوں ایک غلطی کے نتیجے میں امریکی فوجی مورچے کے قریب گولہ باری ہوئی جہاں درجنوں اہلکار تعینات تھے۔ بعد ازاں امریکی حکام کا کہنا تھا کہ ترک فوج نے شامی سرحدی شہر کوبانی میں توپ خانے سے گولاباری کی، فائر کیے گئے چند گولے امریکی دستوں کے قریب گرے۔

دوسری جانب ترک فوج کی کارروائی میں اب تک 500 سے زائد کرد جنگجووں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے جبکہ بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق حملے کے نتیجے میں کئی لاکھ شامی کرد بے گھر ہوگئےہیں اورعلاقے میں کھانے پینے کی اشیاء کی قلت پیدا ہونے لگی ہےجبکہ کرد ملیشیا کے ہاتھوں قید داعش دہشت گردوں کے فرار کے خدشات بڑھتے جارہے ہیں کیونکہ کرد ملیشیا نے صاف کہہ دیا ہے کہ وہ ترک حملے کے بعد داعش کے قیدیوں کی مزید نگرانی نہیں کرسکتے۔

Share This Article

تازه ترین