پاکستانی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ پاکستان ایران اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے سہولت کار بن سکتا ہے۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ مسئلہ پیچیدہ ہونے کے باوجود حل کیا جاسکتا ہے۔

گزشتہ روز تہران میں ایرانی صدر حسن روحانی کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران عمران خان کا کہنا تھا،” پاکستان نے ماضی میں سعودی عرب اور ایران دونوں ممالک کی میزبانی کی ہے اور ایک مرتبہ پھر دونوں برادر ممالک کو پیشکش کرتا ہے کہ وہ پر امن انداز سے اپنے اختلافات کو بات چیت سے حل کرنے کی کوشش کریں۔‘‘

عمران خان کا کہنا تھا کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان تنازعہ صرف اس خطے کو نہیں بلکہ کئی ترقی پذیر ممالک کو متاثر کرے گا۔ کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا، کئی ممالک کے اخراجات میں اضافہ ہو گا اور یوں غربت میں بڑھے گی۔‘‘.

پاکستان کی خارجہ پالیسی اور سکیورٹی صورتحال پر کئی کتابوں کے مصنف زاہد حسین کی رائے میں یہ پاکستان کے بس کی بات نہیں۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا،” ایران اور سعودی عرب کے تنازعات بہت گہرے ہیں، دونوں ممالک کے درمیان خطے میں طاقت کے حصول کی جنگ ہے۔

ایسے میں  پاکستان کے پاس ایسی پوزیشن نہیں ہے کہ وہ اس بہت پیچیدہ مسئلے میں سہولت کار بن سکے، لگتا نہیں ہے کہ اس حوالے سے کوئی بہت زیادہ پیش رفت ہوگی۔‘‘ زاہد حسین کہتے ہیں کہ سعودی عرب ایران کو سب سے بڑا خطرہ سمجھتا ہے اور ایران کے خلاف اس کی پوزیشن بہت سخت ہے ایسے میں ان دو ممالک کو بات چیت پر آمادہ کرنا اتنا آسان نہیں ہوگا۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے