شام پرترک حملےکےبعد امریکا نےایکشن لیتے ہوئےترکی پر پابندیاں عائد کردیں جب کہ صدر ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ وہ ترکی کی معیشت کو برباد کرنے کےلیے مکمل تیار ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق امریکا کی جانب سے ترکی کی وزارت دفاع اور توانائی پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں جب کہ ترکی کے دو وزرا اور تین سینئر عہدیداروں پر بھی پابندی لگادی گئی ہے۔
اُدھر امریکی صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز جاری ایک بیان میں کہاتھا کہ وہ جلد ترکی کے سابق اور موجودہ حکومتی عہدیداروں سمیت ترکی کی عدم استحکام پیدا کرنے والی کارروائیوں میں شامل کسی بھی شخص پر پابندیوں کے لیے ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کریں گے۔ امریکی صدر کا کہنا تھاکہ اسٹیل ٹیرف کو واپس 50 فیصد تک لایا جائے گا، اس کے علاوہ امریکا وزارت تجارت کی سربراہی میں ترکی سے 100 بلین ڈالر کی ٹریڈ ڈیل پر بھی مذاکرات فوری روک دےگا۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایگزیکٹو آرڈر سے امریکا کو یہ اختیار ہوگا کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث اور سیز فائر میں رکاوٹ ڈالنے والوں پر سخت پابندیاں عائد کرسکے۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ شام میں ہونے والی وحشیانہ کارروائی میں سہولت کاری اور مالی معاونت کرنے والوں کو ہدف بنانے کے لیے امریکا انتہائی سختی سے معاشی پابندیوں کا نفاذ کرے گا۔انہوں نے کہا کہ اگر ترک رہنما مسلسل اس تباہی کے راستے کو اختیار کرتے ہیں تو میں اس کی معیشت کو برباد کرنے کے لیے مکمل تیار ہوں۔
جبکہ میڈیا نمائندوں سےگفتگو کرتےہوئے امریکی وزیر خزانہ کا کہنا تھاکہ ترکی پرعائد کی گئی پابندیاں بہت سخت ہیں جو اس کی معیشت پر بہت زیادہ اثر انداز ہوں گی۔ امریکی وزارت خزانہ کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ترکی کی وزارت دفاع اور توانائی کے خلاف کارروائی کی گئی ہے جب کہ ساتھ ہی وزیر دفاع، توانائی اور داخلہ کے خلاف بھی ایکشن لیا گیا ہے۔
امریکی وزارت خزانہ کا کہنا ہےکہ ترک حکومت کی کارروائی سے بے گناہ شہری خطرے میں ہیں اور خطہ عدم استحکام کا شکار ہورہا ہے، اس کے علاوہ داعش کو شکست دینے کی مہم بھی کمزور پڑررہی ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق امریکی نائب صدر مائیک پینس نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے اپنے ترک ہم منصب رجب طیب اردوان کو فون کرکے فوری طورپرجنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ وہ جتنی جلدی اور جتنا ممکن ہوا، خطے کا دورہ کریں گے۔
امریکا کی جانب سے ترکی کو خبردار کیا گیا ہےکہ ترکی کے سیز فائر کیے جانے تک پابندیاں جاری رہیں گی اور ان میں مزید سختی کی جائے گی۔امریکی نائب صدر نے ترکی پر زور دیا کہ فوری طور پر تشدد روک کر ترکی اور شام کی سرحد سے متعلق مسائل پر مذاکرات کے ذریعے ایک طویل مدتی معاہدہ کیا جائے۔مائیک پینس کا مزید کہنا تھا کہ امریکا نے ترکی کو شام پر لشکر کشی کے لیے کوئی گرین سگنل نہیں دیا تھا۔
دوسری جانب میڈیا رپورٹس کے مطابق شامی افواج شمال مشرقی علاقے میں داخل ہوچکی ہیں جس کے بعد ان کا ترک فورسز سے تصادم ہوسکتا ہے۔ترکی کا کہنا ہےکہ اس کے حملے کا مقصد کرد فورسز کو سرحدی علاقے سے پیچھے دھکیلنا ہےاورایک سیف زون قائم کرنا ہے، جبکہ اطلاعات ہیں کہ ترک حملے کے بعد کرد ملیشیا کے پاس قید داعش کے بہت سے دہشتگرد فرار ہورہے ہیں۔