مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و جبر، اور 73 روز سے جاری لاک ڈاؤن اور مکمل تاریکی کے ماحول میں مظلوم کشمیریوں نے مزاحمت کے اظہار کا نیا راستہ اختیار کرتے ہوئے سیبوں پر بھارت مخالف اور پاکستان کے حق میں نعرے لکھ کر بھارت بھیج دیئے۔
تاجروں کو حالیہ موصول ہونیوالے سیبوں پر جو نعرے لکھے گئے تھے ان میں ہم کیا چاہتے آزادی، میری جان عمران خان، پاکستان زندہ باد، میں برہان وانی سے محبت کرتا ہوں، موسیٰ واپس آجاؤ شامل ہیں، جس نے ہلچل مچا دی ہے۔
ایک مقامی تاجر کے مطابق جب وہ صبح فروٹ منڈی گئے اور وہاں سے سیب لے کر آئے اور لڑکوں کو دکان پر سیب لگانے کو کہا تو جب انہوں نے سیبوں کے کریٹ کھولے تو ان پر نعرے لکھے ہوئے تھے، جس کی وجہ سے فروٹ منڈی اور پورے بازار میں دہشت اور خوف کا ماحول بنا ہوا ہے، جس سے خریداروں کا رش کم ہو گیا ہے۔
واضح رہے کہ بھارت نے رواں سال اگست میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے لیے آرٹیکل میں ترمیم کی جس کے بعد سے وہاں پر مسلسل کرفیو نافذ ہے، وادی میں بھارتی اقدامات کی وجہ سے مواصلات بند ہے جبکہ اشیائے خوردونوش اور ادویات کی بھی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔ جبکہ مقبوضہ وادی میں کاروبار کی بندز سے ایک ارب ڈالرز سے زائد کا نقصان ہوچکا ہے، وادی کی قالین کی صنعت اور سیب کے باغات بھی بری طرح متاثر ہیں۔
دوسری جانب ایک روز قبل امریکی اخبار نے انکشاف کیا تھا کہ بھارتی فوج حراست میں لیے جانے والے کشمیریوں کو بجلی کے جھٹکے دیتی اور انہیں الٹا لٹکا کر تشدد کا نشانہ بناتی ہے۔واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والی رپورٹ میں بھارتی اقدامات کو خلاف جمہوریت قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ امریکی صدر نے مقبوضہ کشمیر کے حل کے لیے کردار ادا نہیں کیا، وادی میں بھارتی فوج کی جبری حراست کے حوالے سےمسلسل اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔
امریکی اخبار کے مطابق سیاستدان،ادیب،دانشوراورسماجی کارکن بھارت کی قیدمیں ہیں، 2ماہ سےزیادہ عرصہ گزرنےکےباوجودکشمیرمیں کریک ڈاؤن ہے، 13سال تک کےبچوں کوبھی بھارتی فورسز نے تشدد کا نشانہ بنایا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فورسز نے حراست میں لیے جانے والے کشمیری نوجوانوں کوبجلی کے جھٹکے دئیے اور انہیں الٹا لٹکا کر تشدد بھی کیا، مودی سرکار عالمی میڈیا اور امریکی سینیٹرز کو کشمیر جانے نہیں دیتی۔