ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو واضح جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ شام میں جنگ بندی نہیں کریں گے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اردوان کا کہنا تھا کہ امریکا کی طرف سے عائد پابندیوں سے خوفزدہ نہیں، کرد جنگجوؤں کے خلاف فوجی کارروائیاں شام میں جاری رہیں گی۔
انہوں نے واشنگٹن حکام کو واضح کردیا کہ ترکی اقتصادی پابندیوں کے باعث دباؤ میں نہیں آئے گا، اپنے مقصد کے حصول کے لیے اپنا مشن جاری رکھیں گے۔ خبر ایجنسی کے مطابق ترکی کی جانب سے سرحد سے متصل شامی علاقے کو محفوظ بنانے کے لیے کارروائی جاری ہے، ترکی اپنی سرحد سے شام کے اندر بیس میل تک محفوظ علاقہ قائم کرکے شامی مہاجرین کو بسانا چاہتا ہے۔ترک صدر نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘وہ جنگ بندی کے اعلان کی بات کہتے ہیں۔ ہم کبھی بھی جنگ بندی کا اعلان نہیں کریں گےصدر نے کہا: وہ ہم پر آپریشن بند کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ وہ پابندیوں کا اعلان کر رہے ہیں۔ ہمار مقصد واضح ہے۔ ہم کسی بھی پابندی سے پریشان ہونے والے نہیں ہیں۔
گذشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کے خلاف پابندیوں کا حکم نامہ جاری کیا ہے، امریکا نے ترک وزیردفاع، وزیرداخلہ اور وزیرتوانائی پر پابندی عائد کردی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کو خبردار کیا تھا کہ اگر انقرہ حکومت کے خلاف معاشی پابندیاں لگانی پڑیں تو لگائیں گے۔
اُدھر شام میں کردوں کے خلاف ترکی کی فوجی کارروائی پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کینیڈا نے ترکی کو ہتھیاروں کی نئی فروخت روکنے کا اعلان کیا ہے۔ فوجی کارروائی کے آغاز پر ایران نے سخت رد عمل دکھایا جس کے بعد ہالینڈ، جرمنی اور فرانس نے ترکی کو اسلحہ فروخت کرنے کے معاہدے معطل کردیئے تھے اور اب کینیڈا نے بھی اسلحے کی فروخت بند کردی ہے۔
کینیڈا کا کہنا ہے کہ ترکی کو اسلحے کی خرید و فروخت سے متعلق کیے گئے تمام معاہدوں کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہو گا۔شمالی شام پر ترکی کے فوجی حملوں کی شام ، عالمی برادری اور یورپی ممالک کی جانب سے سخت مخالفت ہو رہی ہے۔کہا جاتا ہے کہ شمالی شام میں ترکی کی فوجی کارروائی ترک صدر رجب طیب اردوغان اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت کے بعد شروع ہوئی ہے۔