پاکستان سمیت دنیا بھرمیں 17 اکتوبر غربت کےخاتمے کے عالمی دن کے طور پرمنایا جارہا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد ترقی پذیر ممالک سے غربت کا خاتمہ اور غریبوں کا معیار زندگی بلند کرنا ہے۔غربت کےخاتمےکا یہ دن منانے کا آغاز سنہ 1993 سے ہوا۔ اس دن دنیا بھر میں غربت، محرومی اور عدم مساوات کے خاتمے، غریب عوام کی حالت زار اور ان کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کی اہمیت کو اجاگر کرنے کا پیغام اجاگر کیا جاتا ہے۔

اس سال کامرکزی خیال ہےکہ غریب بچوں اوران کےخاندانوں کوخود مختار کرنے کے لیے کام کیا جائے تاکہ غربت کا خاتمہ ممکن ہوسکے۔اقوام متحدہ کے طے کردہ پائیدار ترقیاتی اہداف میں پہلا ہدف دنیا بھر سے غربت کا خاتمہ ہے تاہم یہ ہدف ابھی بھی اپنی تکمیل سے کوسوں دور ہے۔ عالمی اداروں کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں غریب افراد کی تعداد 3 ارب کے قریب ہے۔ ان افراد کی یومیہ آمدنی ڈھائی ڈالر سے بھی کم ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ 25 سال میں 70 کروڑ افراد غربت کی لکیر سے اوپر آگئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق ان غریب افراد کی نصف تعداد دنیا کے صرف 5 ممالک میں رہائش پذیر ہے جو بھارت، بنگلہ دیش، عوامی جمہوریہ کانگو، ایتھوپیا اور نائیجیریا ہیں،ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بھی ایک تہائی سےزیادہ آبادی غربت کی لکیرسے بھی نیچے زندگی گزاررہی ہے جبکہ صوبوں میں سب سےزیادہ غربت بلوچستان میں ہے۔ رپورٹ کے مطابق صوبائی لحاظ سے غربت کی سب سے بلند شرح صوبہ بلوچستان میں ہے، دوسرے نمبر پر صوبہ سندھ، اس کے بعد صوبہ خیبر پختونخواہ اورسب سےکم صوبہ پنجاب میں ہے۔

بھوک اورافلاس پرنظر رکھنے والے ادارے گلوبل ہنگر انڈیکس کی سالانہ رپورٹ کے مطابق غربت کےحوالے سے پاکستان کی رینکنگ بہتر ہوئی جبکہ بھارت مزید تنزلی کا شکارہوا ہے۔ گلوبل ہنگر انڈیکس کی جانب سےجاری ہونے والی رینکنگ میں 117 ممالک کا نام شامل ہے،جنوبی ایشیا میں بھارت کو سب سے زیادہ غربت و افلاس کا شکار ملک قرار دیا گیا اور تنزلی کے بعد اس کا نمبر102 تک پہنچ گیا۔ رینکنگ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی صورتحال بہتر ہے اور بھارت کے مقابلے میں پاکستان کا نمبر 8 درجے اوپر یعنی 93 ویں پوزیشن پرہے۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے