ڈنڈا دکھانے والوں کے خلاف ڈنڈا اٹھانا ریاست کا حق ۔۔۔!!

جے یو آئی رہنما مولانا فضل الرحمان کے کارکنان کی جانب سے احتجاجی مارچ کیلئے ڈنڈا بردار فورس کی وڈیو منظر عام پر آنے کے بعد حکومت کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آرہا ہے جبکہ ناقدین نے بھی اس عمل کو نامناسب اورریاست کے اندر ریاست سے تعبیر کیا ہے، اس حوالے سےوزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے ریاست کو حق ہے کہ وہ ڈنڈا اٹھائےاور عوام کےجان و مال کا تحفظ کرے۔

فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ احتجاج سیاسی جماعتوں کا آئینی اور قانونی حق ہے لیکن 27 اکتوبر کشمیریوں سے یکجہتی کا دن ہے۔ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے حکومت کو گھر بھیجنے سے متعلق بیان پر ردعمل دیتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ مولانا اور دیگر سیاسی جماعتوں کے حکومت کو گھر بھیجنے کے ارمان دیوانے کی بڑھکیں ہیں۔

معاون خصوصی نےکہا کہ مولانا فضل الرحمان کےبیانیےکی حوصلہ شکنی ہوگی اورقوم کی یکجہتی کو پارا پارا کرنے کی سازش کو حکومت برداشت نہیں کرے گی۔ان کا کہنا تھا کہ سیاسی پنجہ آزامائی کا حل بھی سیاسی ہی ہوتا ہے جب کہ احتجاج سے متعلق عدالت نے بال انتظامیہ کے کورٹ میں ڈال دی ہے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے مولانا فضل الرحمان کے مارچ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئےکہا کہ فضل الرحمان اگر احتجج کرنا چاہتے ہیں تو یہ ان کا حق ہے لیکن مجھے لگتا ہے کہ یونیورسٹیوں سے ریسرچ کروانی پڑے گی کہ مولانا کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مولانا کا معاملہ بلی کے خواب میں چھیچڑے جیسا ہے، پرویز خٹک جیسا سینئر رہنما مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات کے لیے جا رہا ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ ہم آلومٹر بیچ کر معیشت کو سہارا نہیں دے پائیں گے،راولپنڈی میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب میں فواد چوہدری کا کہنا تھا میں نے یہ کہہ دیا کہ سرکاری نوکریاں نہیں مل سکتیں تو میڈیا میں طوفان آگیا۔ فواد چوہدری نے کہا کہ معیشت کی سرپرستی سرکاری سیکٹر نہیں نجی شعبہ کرتا ہے، معیشت کی الف ب جاننے والوں کو معلوم ہے کہ ہمیں پرائیویٹ سیکٹر میں ہی کامیابی حاصل کرنا ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ سائنس اور ٹیکنالجی کا چارج لیا تو یہ ٹوٹی ہوئی انڈسٹری تھی، یونیورسٹیوں میں ریسرچ ہوتی تھی تو پتا نہیں ہوتا تھا کہ آگے کیا ہو گا، فیصلہ کیا ہے کہ یونیورسٹیوں کو بزنس کرنے کی اجازت دیں۔ انہوں نے کہا کہ میں زرعی یونیورسٹیوں میں جا کر حیران ہوا کہ وہاں اتنا اچھا کام ہو رہا ہے، ہمیں زراعت میں جدید ٹیکنالوجی استعمال کرنا ہو گی، ہمیں نوجوانوں کے ذریعے کامیاب معیشت بنانی ہے۔

Share This Article

تازه ترین