یورپی یونین کے صدر ڈونلڈ ٹسک کا کہنا ہےکہ معاہدہ گواہ ہےکہ ہم نے مسئلے کا حل نکال لیاہے۔اور اس حوالے سےایک ڈیل طے پائی ہے جس کیلئے مراسلہ بھیج دیا گیا ہے اور اس ڈیل پر اب برطانوی دارلعوام مین رائے شماری ہوگی، برطانوی میڈیا کے مطابق پارلیمنٹ سے بریگزٹ ڈیل کی منظوری کے بعد ہی بریگزٹ کا عمل آگے بڑھے گا۔
یورپی یونین کے صدر ڈونلڈ ٹسک کا کہنا ہے کہ برطانیہ اور یورپ کے درمیان متوازن اور شفاف معاہدہ طےہوا ہے اور معاہدہ گواہ ہے کہ ہم نے مسئلے کا حل نکال لیا ہے۔ برطانیہ کو یورپی یونین سے 31 اکتوبر کو علیحدہ ہونا ہے۔ برطانیہ کو 2016 کے ریفرنڈم کے مطابق 29 مارچ کو یورپی یونین سے علیحدہ ہونا تھا تاہم ہاؤس آف کامنز کی جانب سے متعدد مرتبہ بریگزٹ معاہدے کی منسوخی کے باعث بریگزٹ میں 12 اپریل توسیع کی گئی تھی۔
اس حوالے سے وزیراعظم بورس جانسن نے بھی تصدیق کی ہے کہ یورپی یونین کے ساتھ نئی بریگزٹ ڈیل پر معاملات طے پا گئے ہیں۔ بورس جانسن کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کے ساتھ نئی شاندار بریگزٹ ڈیل سے ہمیں اختیارات واپس مل جائیں گے۔ وزیراعظم بورس جانسن یورپی یونین کی سمٹ میں شرکت کےلیے برسلزروانہ ہو گئےہیں۔ برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ برطانیہ اور یورپی یونین کےدرمیان بریگزٹ ڈیل پرمعاملات طے پانے کے بعد فریقین ڈیل کے مسودے پر کام کررہے ہیں، نئی ڈیل پر برطانیہ اور یورپی یونین کی پارلیمنٹ سے منظوری درکار ہو گی۔
صدریورپین کمیشن جین کلاڈینکر کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ڈیل نئی ڈیل شفاف اور متوازن ہے جب کہ فرانسیسی صدر پرامید ہیں کہ برطانوی اراکین پارلیمنٹ بریگزٹ ڈیل منظورکرلیں گے۔دوسری جانب شمالی آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والی حکومت کی اتحادی جماعت ڈی یو پی نے ڈیل کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ڈی یو پی رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ ڈیل کی موجودہ شرائط کے ساتھ اس کی حمایت نہیں کر سکتے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق ڈی یو پی کے ساتھ نہ دینے کی صورت میں حکومت کو پارلیمنٹ سے ڈیل منظور کرانے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالتے ہی بورس جانسن نے کہا تھا کہ اب چاہے کچھ بھی ہو برطانیہ 31 اکتوبرکویورپی یونین سےعلیحدہ ہوجائے گا۔ ڈیوڈ کیمرون کے استعفے کے بعد برطانیہ کی وزیراعظم بننے والی ٹریزا مے نے جولائی میں بریگزٹ ڈیل کی پارلیمنٹ سے منظوری میں ناکامی کے بعد مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا اور ان کے بعد بورس جانسن نے عہدہ سنبھالا تھا۔
برطانیہ میں یورپی یونین میں رہنے یا اس سے نکل جانے کے حوالے سے 23 جون 2017 کو ریفرنڈم ہوا تھا جس میں بریگزٹ کے حق میں 52 جبکہ مخالفت میں 48 فیصد ووٹ پڑے جس کے بعد اس وقت کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کو عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا، کیوں کہ وہ بریگزٹ کے مخالف تھے۔ برطانیہ نے 1973 میں یورپین اکنامک کمیونٹی میں شمولیت اختیار کی تھی تاہم برطانیہ میں بعض حلقے مسلسل اس بات کی شکایات کرتے رہے ہیں کہ آزادانہ تجارت کے لیے قائم ہونے والی کمیونٹی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے رکن ممالک کی ملکی خودمختاری کو نقصان پہنچتا ہے۔