• Turkish
  • Russian
  • Spanish
  • Persian
  • Pakistan
  • Lebanon
  • Iraq
  • India
  • Bahrain
  • French
  • English
  • Arabic
  • Afghanistan
  • Azerbaijan
شفقنا اردو | بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ اور تجزیاتی مرکز

شفقنا اردو

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • آپ کی خبر
  • بلاگ
  • پاکستان
  • تصویری منظر نامہ
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • عالمی منظر نامہ
  • وڈیوز
  • رابطہ
شفقنا اردو | بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ اور تجزیاتی مرکزشفقنا اردو | بین الاقوامی شیعہ خبر رساں ادارہ اور تجزیاتی مرکز
Font ResizerAa
Search...
Follow US
© Copyright - SHAFAQNA | 2025

مارخور ۔۔۔ ہارے بھی تو بازی مات نہیں

Published: 08:42 | جمعہ اکتوبر 18، 2019
Share

مارخور ۔۔۔ اپنے نام کے برعکس بلا کا معصوم اور خوبصورت جانور ہے جسے پاکستان کا قومی جانور ہونے کا اعزاز حاصل ہے ، شرارت سے قلانچیں بھرتا ، اپنی غزال جیسی آنکھوں میں دنیا بھر کی حیرت کو سموتا اورہم ظالم انسانوں سے چھپتا چھپاتا مارخورصرف سانپ کا دشمن ہے ۔  کہا جاتا ہے کہ مارخور سانپ کو مار کر اُس کو چبا جاتا ہے، اور اُس جگالی کے نتیجے میں اِس کے منہ سے جھاگ نکلتا ہے جو نیچے گر کر خشک اور سخت ہوجاتا ہے اور جسے پھر سانپ کے کاٹنے پر تریاق کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

فارسی زبان میں مار سانپ کو کہتے ہیں اور خور کا مطلب کھانے والا ہے۔ وہ دشمن کو مار کھانے والا جانور ہے لیکن اسے انسانوں کی شکاری آبادی نے ہمیشہ ڈرائے رکھا ۔

خوبصورت و خوب سیرت جانور مارخور اُن 72 جانوروں میں شامل ہے جن کی تصاویر عالمی تنظیم برائے جنگلی حیات کے 1976ء میں جاری کردہ خصوصی سکہ جات کے مجموعےمیں شامل ہیں ۔

اس وقت دنیا بھر میں مارخور کی پانچ اقسام ہیں جن میں سے تین اقسام پاکستان میں پائی جاتی ہیں۔ جنہیں سلیمان مارخور، کشمیر مارخور اور استور مارخور کہا جاتا ہے۔

سلیمان مارخور کوہ سلیمان میں پایا جاتا ہے۔ کشمیر مارخور چترال کے علاقے میں نظر آتا ہے اور استور مارخور کا مسکن گلگت بلتستان کے علاقے ہیں۔

پاکستان میں مارخورکے تحفظ کے لیے ٹرافی ہنٹنگ کی جاتی ہے کیونکہ غیرقانونی شکار کے باعث اس نایاب جانور کی نسل کو معدومی کے خطرات لاحق ہیں ۔

 ٹرافی ہنٹنگ میں وائلڈ لائف کنزرویشن کا محکمہ شکار کے لیے لائسنس جاری کرتا ہے جس کے تحت ہر سال گلگت بلتستان میں اکتوبر سے اپریل تک قانونی شکار کیا جاتا ہے۔ حکومت کی جانب سے صرف بارہ شکاریوں کو پرمٹ جاری ہوتے ہیں جس کی باقاعدہ بولی لگتی ہے۔ شکار سے پہلے وائلڈ لائف گلگت بلتستان کے تحت سروے کیا جاتا ہے جس میں مقامی نمائندے بھی شامل ہوتے ہیں جو طویل عمرمارخورکی نشاندہی کرتے ہیں یا پھر ایسے نر اور بوڑھے مارخور جو اپنی طبعی عمر کو پہنچ چکے ہوتے ہیں ان کی تعداد معلوم کرتے ہیں تاکہ شکاریوں کوان کے قانونی شکار کی اجازت دی جائے۔

بوڑھے مارخورکے شکار کی اجازت کا مقصد محض پیسہ کمانا نہیں ہوتا بلکہ اس حوالے سے ایک مقامی گائیڈ کا کہنا تھا کہ جس مار خور نے بالاخر مرجانا ہوتا ہے ہم اس کے شکار کی اجازت دیتے ہیں تاکہ شکاری غیرقانونی عمل سے اس نایاب جانور کو نقصان نہ پہنچائیں اور دوسری طرف ان کا شکار کوئی عام آدمی نہیں کرسکتا کیونکہ اس پر خاصا سرمایہ خرچ کیا جاتا ہے یہ سرمایہ بعدازاں مارخور کی افزائش اور مقامی جانوروں کے تحفظ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ۔ مقامی کمیونٹی کے افراد کو شامل کر کے غیرقانونی شکار کو قانونی بنانے کےعمل سے کافی فائدہ ہوا ہے اب مارخور کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے ۔

گائیڈ نے یہ بھی بتایا کہ شکاری کو صرف دو گولیاں چلانے کی اجازت ہوتی ہے اگرپہلی گولی ہی مس ہوجائے تو وہ دوسری گولی نہیں چلاسکتا ۔

ذرائع کے مطابق رواں سال حکومت پاکستان  نے ملک بھر میں 12 بوڑھے مارخور وں کے شکار کے پرمٹ جاری کیے ہیں، جب کہ اس سال ایک مارخور کے شکار کا پرمٹ ایک لاکھ 10 ہزار ڈالر میں  نیلام کیا گیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اب تک یہ لائسنس کسی پاکستانی نے نہیں خریدا اور ہر بار غیر ملکی شکاری ہی یہ پرمٹ حاصل کرتے ہیں۔

مارخور کے سینگوں کی لمبائی 5 فٹ تک بھی طویل ہوتی ہے۔ غیرملکیوں کی بڑی تعداد اس کے سر کا شکار کرنے کے لیے ان علاقوں کا رخ کرتی ہے۔ غیر ملکی شکاری مارخور کا شکار کرکے اس کا سر ساتھ لے جاتے ہیں اور کھال اور دھڑیہیں چھوڑ دیتے ہیں۔ غیرملکی شکاریوں کا کہنا ہے وہ یہ سینگ ہمیشہ کے لیے اپنے پاس محفوظ کرلیتے ہیں ۔

مارخور کے قانونی شکار کے پرمٹ پر حاصل ہونے والے محصولات کا 20 فیصد جنگلی حیات کے شعبے کو اور باقی 80 فیصد مقامی آبادی کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جاتا ہے مقامی لوگ اس بات کا ذکر بڑی محبت اور عقیدت کے ساتھ کرتے ہیں کہ  ان کے نایاب اور قیمتی مارخور نے ہی انھیں خوشحالی کے راستے پر گامزن کیا ۔

TAGGED:hunting in PakistanibexISI logoMarkhor Pakistan National Animaltrophy huntingwild goats
Share This Article
Facebook Copy Link Print

تازه ترین

یمن تنازع روڈمیپ پر عمل درآمد کے ذریعے بہت پہلے ہی حل ہوجانا چاہیے تھا، اسماعیل بقائی
08:22 | پیر اکتوبر 12، 2026
افغان سرزمین سے دہشتگردی ناقابل قبول ہے، اسحاق ڈار
08:18 | پیر اکتوبر 12، 2026
سہیل آفریدی سمیت پی ٹی آئی کے 8 اہم رہنما پولیس کی حفاظتی تحویل میں ہیں: خیبرپختونخوا پولیس
07:01 | پیر اکتوبر 12، 2026
بڑی عالمی ائیرلائنز کا ریاض کے لیے فضائی آپریشن بند کرنے کا فیصلہ
06:47 | پیر اکتوبر 12، 2026
پی ٹی آئی خیبر پختونخوا میں حکومت بچانے اور عمران خان کو ریلیف دلانے میں ناکام
06:43 | پیر اکتوبر 12، 2026
روسی آئل ریفائنریوں پر حملے جاری رہے تو امریکا یوکرین کی فوجی امداد روک دے گا
03:14 | پیر اکتوبر 12، 2026
امریکا نے ایران کی بعض شرائط تسلیم کرلیں، لیکن ہم امریکی ردعمل کو ناکافی سمجھتے ہیں: محسن رضائی
01:53 | پیر اکتوبر 12، 2026
دوسرا ٹی ٹوئنٹی: پاکستان نے سری لنکا کو شکست دیکر سیریز میں فیصلہ کن برتری حاصل کرلی
01:50 | پیر اکتوبر 12، 2026
خیبر پختونخوا میں وفاقی حکومت نے فوج تعینات کردی
01:48 | پیر اکتوبر 12، 2026
خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی غیر معینہ مدت کیلئے ہوسکتی ہے، رانا ثنااللہ
01:31 | پیر اکتوبر 12، 2026

Shafaqna Urdu | Shia News Agency – Fatwas & Analysis

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • آپ کی خبر
  • بلاگ
  • پاکستان
  • تصویری منظر نامہ
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • عالمی منظر نامہ
  • وڈیوز
  • رابطہ

© Copyright - SHAFAQNA | 2026

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?