لاڑکانہ میں شکست، پیپلز پارٹی کا انتخابی نتائج چیلنج کرنے کا اعلان

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نےپی ایس 11 لاڑکانہ کے ضمنی انتخاب میں پیپلز پارٹی کی بدترین شکست پرانتخابی نتائج چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔لاڑکانہ میں 17 اکتوبر کو سندھ اسمبلی کے حلقے پی ایس 11 کے ضمنی انتخاب میں پیپلز پارٹی کو اپنے سیاسی گڑھ لاڑکانہ میں گرینڈ ڈیموکریٹ الائنس (جی ڈی اے) کے امیدوار کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ضمنی انتخاب میں گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کے معظم عباسی نے 31557 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی جب کہ پیپلز پارٹی کے امیدوار جمیل سومرو 26021 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے انتخاب کے نتائج چیلنج کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پولنگ کا عمل جان بوجھ کرسست روی کا شکار کیا گیا، خواتین کے پولنگ اسٹیشنز میں تاخیر سے پولنگ شروع کرائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پی پی کے نامزد اُمیدوارکوپولنگ اسٹیشنزمیں داخل نہیں ہونےدیا گیا لیکن دباؤکے باوجودکارکنوں نے جدوجہد کی۔

بلاول بھٹوکا کہنا تھا کہ نیب نے پی پی ورکرزکو نوٹسز بھیج کر قبل ازانتخابات دھاندلی کی لہٰذا اس نشست پردوبارہ الیکشن کرائیں گے اور جیتیں گے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے ضمنی انتخاب کے نتائج پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ شکایت کےباوجود الیکشن کمیشن نے کوئی نوٹس نہیں لیا، خاموشی سے ان کی بدنیتی ظاہرہوگئی لیکن سچ چھپایا نہیں جاسکتا، اس سلیکشن کو بےنقاب کریں گے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ گرینڈ ڈیموکریٹک کے امیدوار کو جمیعت علمائے اسلام ف کی حمایت حاصل تھی یہ وہی جماعت ہے جو اسلام آباد میں حکومت کے خلاف آزادی مارچ کرنے جاارہی ہے اور پیپلز پارٹی سمیت دیگر اپوزیشن پارٹیاں اس کی حمایتی ہیں، اس حوالے سے بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ انتخابات میں تحریک انصاف کی حمایت کرنے پر جے یو آئی سے کوئی شکوہ نہیں آزادی مارچ کی حمایت جاری رکھیں گے۔

اُدھرپیپلز پارٹی کی شکست پر تحریک انصاف کے رہنما اور وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی نے طنزیہ ٹوئٹ کرتے ہوئے وہی الفاظ استعمال کیئے جو عام طور پر پیپلز پارٹی کے رہنما استعمال کرتے رہتے ہیں اپنے ٹوئٹر بیان میں علی زیدی نے لکھا کہ ’جمہوریت بہترین انتقام ہے اور آج لاڑکانہ کے شہریوں نے انتقام لے لیا۔

Share This Article

تازه ترین