ماہر قانون بابر اعوان نے کہا ہے کہ ریکوڈک کیس کے معاملے پر کارکے کمپنی سے بات چیت شروع ہوگئی اور وہ 1 ارب دو کروڑ ڈالر کا جرانہ چھوڑنے پر تیار ہیں۔ سوشل میڈیا پر جاری بیان میں بابر اعوان کا کہنا تھا کہ پاکستان پر 1 ارب دو کروڑ جرمانہ عائد کیا گیا تھا جسے کمپنی معاف کرنے پر رضا مند ہوگئی۔
بابر اعوان کا کہنا تھا کہ ریکوڈک کیس میں پاکستان پر 6.2 ارب ڈالر جرمانہ کیا گیا تھا، اس معاملے پر بیک ڈور ڈپلومیسی شروع ہوئی او وزیر اعظم عمران خان کی وطن واپسی کے بعد دو طرفہ رابطے بھی ہوئے، ُن کا کہنا تھا کہ ریکورڈک بورڈ آف گورنرز سمجھتا ہے کہ پاکستان میں شفاف حکومت اور ایماندار وزیراعظم ہے، انشاء اللہ ! ریکوڈک چلے،کُھلےگا اور دوڑےگا۔
انہوں نےمزید بتایا کہ وزیراعظم کی زیرقیادت ہونے والے اجلاس میں ایران گیس پائپ لائن سے متعلق فیصلے کیے گئے، ایران نے گیس منصوبے پر 5 سال تک کیس نہ کرنےکی یقین دہانی کرادی، جلد ہی پاکستان میں سستی گیس فراہم کی جائے گی۔ واضح رہےکہ رواں سال جولائی میں انٹرنیشنل کورٹ آف سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹ نے ریکوڈک کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے پاکستان پر بھاری جرمانہ عائد کرتے ہوئے اربوں ڈالر کی رقم ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ پاکستان پر ہرجانہ ریکوڈک کا معاہدہ منسوخ کرنے کے باعث عائد کیا گیا تھا۔